میران شاہ میں بدستور کرفیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں بدھ کے روز بھی کرفیو برقرار رہا جبکہ کشیدگی میں بھی کسی کمی کے آثار نہیں ہیں۔ تاہم کسی تازہ ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ حکومت نے کل شام پولیٹکل ایجنٹ پر حملہ کے سلسلے میں تین قبیلوں کو نوٹس جاری کئے ہیں جبکہ پشاور میں قبائلی علاقوں خصوصا وزیرستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور وکلا نے احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا۔ میران شاہ سے موصول اطلاعات کے مطابق شہر میں فوج کا گشت جاری ہے تاہم شہر میں کئی روز گزر جانے کے باجود ابھی تک بجلی بحال نہیں کی جاسکی ہے۔ اس وجہ سے ٹیوب ویل بند ہیں اور قبائلوں کو پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ بازار بند ہونے کی وجہ سے دیگر اشیاء ضرورت کی کمی ہے۔ نامعلوم افراد نے میران شاہ اور میر علی کے درمیان نورک کے مقام پر منگل کی شام پولیٹکل ایجنٹ سید ظہیر الاسلام کی گاڑی پر حملہ کی تفتیش کے سلسلے میں بدھ کے روز حکام نے تین قبیلوں کو علاقائی ذمہ داری کے قانون کے تحت نوٹس جاری کیئے ہیں۔
اس حملے میں پولیٹکل ایجنٹ کا ایک محافظ ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے تھے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ان قبیلوں میں مبارک شاہی، حکیم خیل اور مرسی خیل شامل ہیں۔ ادھر پشاور میں بدھ کو وزیرستان سٹوڈنٹس فیڈریشن، خیبر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور فاٹا لائیرز فورم نے میران شاہ میں جاری فوجی کارروائی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ پشاور پریس کلب کے سامنے مظاہرے کے دوران طلبہ کے بقول بےگناہ قبائلوں کا قتل عام بند کرنے، طلبہ کو بندوق اٹھانے پر مجبور نہ کرنے اور ذرائع ابلاغ کو علاقے میں محفوظ رسائی دینے جیسے مطالبات کیئے۔ طلبہ نے امریکی صدر بش کے خلاف بھی نعرہ بازی کی۔ مقررین نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دنوں فوجی آپریشن میں ہلاک ہونے والوں میں اکثریت عام لوگوں کی تھی۔ انہوں نے شکایت کی کہ اعلی عدالتیں پتنگ بازی اور شادی میں کھانوں کا نوٹس تو لے رہی ہیں لیکن وزیرستان میں جاری ہلاکتیں ان کو نظر نہیں آ رہی ہیں۔ انہوں نے اس مسئلہ کے حل کے لیئے پارلیمانی اور عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کیا۔ ان طلبہ اور وکلا تنظیموں نے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔
ادھر مسئلے کا بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس سلسلے میں کل رات گئے شمالی وزیرستان کے قبائلی عمائدین کے ایک وفد نے گورنر سرحد خلیل الرحمان سے ملاقات کی جبکہ بدھ کو اس وفد نے اسلام آباد میں صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی بات کی ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق قبائلوں نے حکومت سے جرگے کو اپنا روایتی کرداد ادا کرنے کے لئے موقعہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم صدر سے ملاقات میں کسی جنگ بندی، کرفیو میں نرمی یا امن معاہدے کے سلسلے میں پیش رفت کے آثار دیکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ میران شاہ میں مقامی طالبان نے قبائلی سرداروں پر حکومت سے ملنے پر پابندی لگا رکھی تھی۔ اس وجہ سے یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ حکومت سے مذاکرات کرنے والے اس قبائلی وفد کو مقامی طالبان کی حمایت حاصل ہے یا نہیں۔ | اسی بارے میں احمدی رپورٹ، منافرت مہم08 March, 2006 | پاکستان میران شاہ: ہمارے نامہ نگار نے کیا دیکھا؟08 March, 2006 | پاکستان میران شاہ پر جرگہ: حالات کشیدہ08 March, 2006 | پاکستان ’انسانی حقوق کا خیال رکھیں‘08 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||