احمدی رپورٹ، منافرت مہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے اقلیتی فرقہ جماعت احمدیہ نے دعٰوی کیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دروان میں مذہبی تعصب کی بنا پر گیارہ احمدیوں کو ہلاک کیا گیا ہے جس سے گزشتہ بائیس برسوں میں مذہبی تعصب کی بنیاد پر قتل کیے جانے والے احمدیوں کی تعداد اناسی (79) ہوگئی ہے۔ بائیس سال پہلے سنہ انیس سو چوراسی میں جنرل ضیاالحق کی حکومت نے ایک آرڈیننس نمبر بیس (بعنوان امتناع اور سزا برائے احمدی، قادیانی اور لاہوری گروپ کی اسلام مخالف سرگرمیاں) کے ذریعے احمدیوں پر خود کو مسلمان کہنے، اپنے عقیدہ کی تبلیغ و اشاعت کرنے کو قابل سزا جرم قرار دے دیا تھا۔ پاکستان کی پارلیمینٹ نے سنہ انیس سو چہتر میں احمدی فرقہ کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔ جماعت احمدیہ نے سال دو ہزار پانچ کی اپنی سالانہ رپورٹ میں کہاہے کہ گزشتہ سال ساٹھ احمدیوں کے خلاف مذہبی عقیدہ کی بنیاد ہر مقدمات قائم کیے گئے اور ملک کے اردو اخباروں نے تقریبا ایک ہزار چار سو ایسی خبریں شائع کیں جو احمدیوں کے خلاف لوگوں میں نفرت اور اشتعال پیدا کریں۔ جماعت احمدیہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں بڑے اردو اخباروں میں مولانا سعید احمد جلال پوری کا فتوٰی شائع ہوا جس میں کہا گیا کہ اسلام احمدیوں کا زندہ رہنا برداشت نہیں کرسکتا اور اگر وہ اپنا عقیدہ نہ بدلیں تو ان کے مسموم اثرات سے زمین کو پاک کردینا چاہیے۔ اس فتوی کے شائع ہونے کے کچھ دن بعد سات اکتوبر سنہ دو ہزار پانچ میں مونگ گاؤں ضلع منڈی بہاؤالدین میں آٹھ احمدیوں کو نماز فجر کی ادائیگی کے دوران میں فائرنگ کرکے ہلاک کردیاگیا۔ پولیس اب تک ملزموں کو نہیں پکڑ سکی۔ اسی سال دس ستمبر کو ایک احمدی ڈاکٹر وسیم احمد کو کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا اور سترہ دسمبر کو سیالکوٹ میں نعیم احمد نامی شخص کو نامعلوم موٹر سائکل سواروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ جماعت احمدیہ کے مطابق سنہ دو ہزار پانچ میں ساٹھ احمدیوں کے خلاف پولیس نے مذہبی بنیادوں پر مقدمات درج کیے جس میں سے سولہ افراد کے خلاف توہین رسالت کا الزام لگایا گیا جس کی سزا موت ہے۔ جماعت احمدیہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے گزشتہ سال احمدی فرقہ کو ملک میں کسی بھی جگہ اپنی عبادت گاہ تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی اور کئی جگہوں پر یہ تعمیر پولیس نے زبردستی رکوائی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چناب نگر (ربوہ) کی ساٹھ ہزار آبادی میں سے میں ننانوے فیصد لوگ احمدی ہیں لیکن حکومت نے گزشتہ سال بھی انہیں اپنا مذہبی اجتماع یا جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ دوسری طرف، احمدیوں کے مخالف مولویوں نے چناب نگر میں تین اجتماع منعقد کیے جن میں احمدی اکابرین کو گالیاں دی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احمدیوں کو چناب نگر کی مقامی حکومت میں نمائندگی حاصل نہیں جس وجہ سے انہیں شہری سہولیات جیسے پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں۔ | اسی بارے میں ربوہ میں اخبارات کے خلاف کارروائی06 August, 2005 | پاکستان منڈی بہاؤالدین: احمدی مسجد پر حملہ07 October, 2005 | پاکستان پاکستانی قادیانیوں پر غیرمعمولی حملہ07 October, 2005 | صفحۂ اول مقتول احمدیوں کو دفنا دیا گیا07 October, 2005 | پاکستان احمدی مسجد پر حملے کی مذمت08 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||