مقتول احمدیوں کو دفنا دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سہ پہر تقریبا ساڑھے چار بجے منڈی بہاؤالدین سے پانچ کلومیٹر کے فاصلہ پر مونگ گاؤں میں صبح ہلاک ہونے والے آٹھ احمدی افراد کے جنازے ایک ساتھ اٹھائے گئے اور ان کو راجگان کے قبرستان میں دفن کردیاگیا۔ مونگ گاؤں میں احمدی اور سنی مسلک کے لوگ آپس میں رشتے دار ہیں لیکن جنازے میں سنی مسلک کے لوگوں نے شرکت نہیں کی۔ جنازے کی جگہ کے پاس گاؤں کے جوان آکر کھڑے ہوگئے کہ سنی مسلک کے لوگ جنازہ نہ پڑھیں جس وجہ سے نماز پڑھنے کے لیے آنے والے سینکڑوں سنی لوگوں نے نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی اوروہ پاس کھڑے رہے۔ مونگ گاؤں کی ایک کھلی جگہ پر جسے دارہ راجگان کہتے ہیں یہ جنازے ایک ساتھ رکھے گئے تھے اور وہاں گاؤں کی سینکڑوں عورتیں اور مرد جمع تھے۔ مرنے والوں کی مائیں اور بہنیں بین کررہی تھیں اور گھنٹوں آہ و زاری ہوتی رہی۔ عورتیں چیخیں مار مار کر لاشوں سے لپٹ رہی تھیں۔ دس بارہ ہزار آبادی کا یہ خاصا بڑا گاؤں نہر لوئر جہلم کے کنارے پر سرائے عالمگیر اور منڈی بہاؤالدین کے درمیان واقع ہے۔ یہاں احمدی مسلک کے پچیس گھرانے رہتے ہیں اور اوران کی دوسرے مسلک کے لوگوں سے رشتہ داریاں ہیں۔ کوئی رشتہ دار سنی ہے اور کوئی احمدی۔ جس جگہ جنازے رکھے تھے وہاں سوگواروں میں ایک بڑی تعداد سنی مسلک کے لوگوں کے مرد اور عورتوں کی تھی۔ آج صبح فجر کی نماز کے وقت احمدیوں کی مسجد، جسے بیت الذکر کہتے ہیں، میں نمازیوں پر فائرنگ سے موقع پر تین افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ پانچ لوگ منڈی بہاؤالدین کے ضلعی ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گئے۔ تین افراد شدید زخمی ہیں۔ ان میں سے ایک کو لاہور اور دو کو کھاریاں منتقل کردیا گیا ہے۔ منڈی بہاؤالدین کے ضلعی ہسپتال میں سہ پہر کے وقت دس زخمی زیر علاج تھے جن کے آپریشن ہوچکے تھے اور ان کی حالت خطرہ سے باہر تھی۔ ایک زخمی قمر شہزاد راجہ، عمر انتیس سال، نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نے فجر کی دوسری رکعت میں قیام کے دوران میں سورo فاتحہ ختم ہی کی تھی کہ انہیں گولیاں چلنے کی تڑ تڑ سنائی دی اور اس کے کان جیسے سن ہوگئے۔ جیسے ہی انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا اسے گولیوں کی ایک بوچھاڑ اس کی طرف آتی نظر آئی۔ زخمی قمر کی ٹانگ اور ہاتھ میں گولیاں لگنے سے فریکچر ہوا ہے اور ایک گولی ان کے سینے کے پاس سے ان کی قمیض کو پھاڑتی نکل گئی۔ قمر شہزاد راجہ کا کہنا ہے کہ حملہ کرنے والوں نے کلاشنکوف کے دو برسٹ مارے اور انہیں اس کام میں سات آٹھ سیکنڈ لگے ہوں گے اور اس کے بعد انہوں نے مسجد کے صحن میں ہوائی فائر کیے اور اسے موٹر سائکل اسٹارٹ ہوکر چلنے کی آواز سنائی دی۔ قمر شہزاد کا کہنا ہے کہ اس وقت وہاں پر تقریبا پچیس لوگ نماز ادا کررہے تھے۔ اس نے دیکھا کہ لوگ گولیاں لگنے سے گر رہے ہیں، کوئی ادھر تڑپ رہا ہے اور کوئی اُدھر۔ قمر شہزاد کہتا ہے کہ گاؤں میں کوئی تناؤ نہیں تھا اور یہ سراسر دہشت گردی کا واقعہ ہے۔ مونگ گاؤں میں جس کسی سے بھی پوچھا گیا وہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ گاؤں میں کوئی فرقہ وارانہ تناؤ نہیں تھا اور یہ واقعہ اچانک رونما ہوا ہے۔ احمدیہ جماعت کے ترجمان راشد جاوید نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فرقہ وارانہ نفرت کے بیانات نہ دیں کیونکہ گزشتہ چند ہفتوں سے ایسے بیانات آرہے تھے جن سے اشتعال پیدا ہوتا ہے اور لوگ تشدد کی کاروائیاں کرتے ہیں۔ مونگ میں ہلاک ہونے والوں میں عابد خان، محمد اشرف، یاسر، محمد اسلم، نوید، الطاف، عبدالحمید اور راجہ لہراسپ شامل تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||