ربوہ میں اخبارات کے خلاف کارروائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شہر جھنگ میں پولیس نے جماعت احمدیہ کے اخبارات کے دفاتر اور دو چھاپہ خانے بند کر دیئے ہیں۔ جماعت احمدیہ کے سولہ کے قریب اخبارات رسائل وجرائد کے مدیران پبلشر اور پرنٹرز کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ پریس میں موجود دو ملازمین کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان شاہد احمد سعدی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیل کیے جانے والے چھاپہ خانوں میں ضیاءاسلام پرنٹنگ پریس اور نصرت آرٹ پریس شامل ہیں جبکہ ان کی جماعت کے ترجمان روزنامہ، ’ابولفضل‘ کے دفاتر بھی بند کر دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ تمام جرائد اور اخبارات کے مدیروں، اور پرنٹر پبلشرز کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ جھنگ کے ضلعی پولیس افسر حامد مختار گوندل نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کارروائی صوبائی محکمہ داخلہ کے حکم پر ہوئی ہے۔ ضلعی پولیس افسر نے کہا کہ جماعت احمدیہ کے کوئی سولہ کے قریب اخبارات و رسائل ممنوع قرار دیئے گئے تھے لیکن وہ اس کے باوجود شائع ہو رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ چھاپوں کے دوران ایسا لٹریچر برآمد ہوا ہے جو ممنوع قرار دیا جاچکا تھا۔ پولیس کے مطابق چھاپہ خانوں کے دو ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ایک مذہبی رہنما مولانا چنیوٹی نے صوبائی وزارت داخلہ کو کئی بار تحریری شکایت کی تھی کہ جماعت احمدیہ کے لوگ ایسا ممنوعہ لٹریچر شائع کر رہے ہیں جو مقامی لوگوں میں اشتعال کا سبب بن سکتا ہے۔ جھنگ پولیس کے سربراہ حامدمختار گوندل نے کہا کہ اگرچہ جماعت احمدیہ کے اراکین کےخلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جاسکتا تھا لیکن فی الحال ان کے خلاف دوسرے کے عقیدے کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت ایک امن پسند جماعت ہے اور کبھی مذہبی منافرت اور تشدد کے واقعات میں ملوث نہیں رہی ہے بلکہ خود تشدد اور نفرت کا شکار ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ان کے کسی اخبار اور رسالے میں کسی فرقے اور مذہب کے خلاف قابل اعتراض اور نفرت انگیز مواد شائع نہیں ہوا ہے اور پولیس کے الزمات بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کےخلاف محض تعصب کی بنیاد پر ایسے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ پاکستان میں سن انیس سو چوہتر میں قومی اسمبلی نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعے احمدیہ فرقے کے پیروکاروں کو متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیدیا تھا جس کے بعد سے اس فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد سماجی سطح پر اور سرکاری ملازمتوں کے حوالے بدسلوکی کی شکایت کرتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||