پاکستانی قادیانیوں پر غیرمعمولی حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین کے قصبے مونگ میں جماعت احمدیہ کی ایک مسجد پر حملے نے بیشتر پاکستانی مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔ جمعہ کی صبح پیش آنے والا یہ واقعہ جماعت احمدیہ کے لیے امن کی ایک دہائی کا اختتام ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جماعت احمدیہ پاکستان میں سب سے زیادہ مذہبی تعصب کا شکار رہی ہے۔ اسلامی تنظیموں کے دباؤ پر جماعت احمدیہ کے افراد نے گزشتہ کئی برس میں اپنے سیاسی اور ذاتی حقوق میں کمی کو برداشت کیا ہے۔ مسلمانوں کے مرکزی دھارے سے ان کے تصادم کی سب سے بڑی وجہ جماعت احمدیہ کا یہ دعوٰی ہے کہ ان کے بانی، مرزا غلام احمد ایک نبٰی تھے۔ جماعت احمدیہ کا کہنا ہے کہ مرزا غلام احمد کوئی نیا پیغام لے کر نہیں آئے تھے بلکہ ان کا مقصد مسلمانوں کے نبٰی حضرت محمد کے پیغام کو بڑھانا تھا۔ لیکن بہت کم مسلمان اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔ بیسویں صدی کے آغاز ہی سے جماعت احمدیہ کے عقائد کا معاملہ ذیلی سطح کی مختلف عدالتوں میں آٹھایا جاتا رہا ہے اور اکثر اوقات فیصلہ یہی دیا گیا کہ وہ غیرمسلم ہیں۔ جماعت احمدیہ نے 1947 میں اپنا مذہبی مرکز انڈیا میں واقع قادیان سے پاکستان کے علاقے ربوہ میں منتقل کردیا۔ اسلامی تنظیموں نے 1953 میں قادیانی مخالف تحریک شروع کردی جس کا مقصد تمام قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دلوانا اور انہیں سرکاری نوکریوں سے نکلوانا تھا۔
پہلے سال ہی میں قادیانی مخالف تحریک کی وجہ سے پنجاب بھر میں ہنگامے اور فساد شروع ہوگئے جن میں کئی قادیانی ہلاک اور سینکڑوں ذخمی ہوئے۔ پاکستان میں سن انیس سو چوہتر میں اسلامی تنظیموں کے دباؤ پر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا اور پاکستان میں اب ان کو اقلیت کی حیثیت حاصل ہے۔ دس برس بعد جنرل ضیاءالحق نے ایک نئے قانون کے تحت قادیانیوں کے اسلامی کلمہ پڑھنے اور اپنی عبادت گاہ کو مسجد قرار دینے سے منع کردیا۔ اس نئے قانون کی وجہ سے جماعت احمدیہ نے اپنا مرکز انگلینڈ منتقل کردیا۔ لیکن اس کے باوجود یہ جماعت کی تاریخ کا سب سے تاریک دور تھا اور ان برسوں میں متعدد قادیانی اپنے مذہب کے پرچار کے الزام میں گرفتار ہوئے۔
سن انیس سو ستاسی میں مسجد کی تعمیر کے الزام میں دو قادیانیوں کو ایک سو اٹھارہ سال کی قید ہوئی۔ ایک بڑی تعداد میں قادیانی اس کے بعد مختلف ممالک ہجرت کرگئے اور قادیانی مخالف تحریک نے بھی اب تک اپنی مخالفت عدالتوں کی حد تک محدود ر کھی۔ لیکن قادیانی مخالف تحریک نے اگست کے مہینے میں ایک نیا رخ لیا۔ جب ایک مذہبی رہنما مولانا چنیوٹی کی تحریری شکایت پر جماعت احمدیہ کے سولہ کے قریب اخبارات رسائل وجرائد کے مدیران پبلشر اور پرنٹرز کے خلاف مقدمات درج کرائے جس کے بعد ان کی اشاعت تاحال ممنوع ہے۔ اس کے باوجودبہت ہی کم لوگ یہ سوچ سکتے تھے کے جماعت احمدیہ کے لوگوں پر، جو کہ اب پاکستان میں تھوڑی تعداد میں ہی رہ گئے ہیں، اس طرح حملہ بھی ہوسکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||