| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
احمدیوں کے خلاف نئی مہم؟
پاکستان میں احمدی فرقہ کے خلاف ایک نئی لہر اٹھتی دکھائی دیتی ہے۔ منگل کو لاہور میں تحریک ختم نبوت کے سربراہ مولانا منظور چنیوٹی نے سخت جارحانہ لب ولہجہ میں پریس کانفرنس کی ہے۔ دوسری طرف چنیوٹ کے قریب احمدیوں کے مرکزی دفتر نے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں احمدی فرقہ کے خلاف کسی شدید اقدام کے خدشہ کا اظہار کیا گیا ہے۔ منگل کو لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا منظور چنیوٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی سلامتی کونسل اور بلوچستان انتظامیہ کے کئی اعلیٰ افسران سمیت ان تمام افسروں کو برطرف کرے جو ان کے بقول احمدی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مولانا منظور چنیوٹی نے کہا کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز احمدی افسران قادیانیت (احمدیت) کے پرچار میں مصروف ہیں اور امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔ تحریک ختم نبوت کے رہنما نے کہا کہ اگر حکومت نے ایسا نہیں کیا تو علماء احمدیوں کے خلاف تحریک چلانے پر مجبور ہوجائیں گے جو ان کے کہنے کے مطابق حق و باطل میں آخری معرکہ ہوگا اور اس کے بعد احمدی فرقہ کے لوگ پاکستان چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ دوسری طرف گیارہ ستمبر کو چنیوٹ کے قریب چناب نگر قصبہ سے احمدی فرقہ کے مرکز سے جاری ہونے والے ایک تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بد اور مکروہ قسم کی چیز کی منصوبہ بندی کی جارہی ہےاور اس کے لیے لوگوں کو تربیت دی جارہی ہے۔ آٹھ صفحات کے اس بیان میں ایسے بہت سے واقعات کا ذکر ہے جن کے مطابق احمدی فرقہ کی عبادت گاہوں اور اہم احمدی شخصیات کی نگرانی کی جارہی ہے اور ان کتصاویر کھینچی جارہی ہیں یا ویڈیو کیمرے سے عکس بندی کی جارہی ہے۔
احمدیوں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو ان تمام واقعات سے آگاہ کردیا گیا ہے اور گزشتہ دو ماہ میں ایسے چار پانچ واقعات ہوئے ہیں جن میں احمدیوں کے مقامی رہنماؤں پر قاتلانہ حملے کیے گۓ ہیں۔ احمدی فرقہ کی رپورٹ میں انتظامیہ، عدلیہ اور پاکستان کے اردو اخبارات پر احمدیوں کے خلاف کام کرنے والے افراد کی مدد کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں اور اس سلسلہ میں بہت سی مثالیں دی گئی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||