میران شاہ: کرفیو میں چار گھنٹے کی نرمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں چھ روز کے بعد کرفیو میں چار گھنٹے کی نرمی کر دی گئی ہے اور کھجوری اور ایشا چیک پوسٹوں کو آمد ورفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ جمعہ کی دوپہر میران شاہ کے قریب ایک زور دار دھماکے سے پورا علاقے دہل گیا تاہم اس دھماکے کی کوئی تفیصل معلوم نہیں ہو سکی۔ علاقے کے پولیٹکل ایجنٹ ظہیر السلام نے بتایا کہ کرفیو میں شام چار بجے تک نرمی کی گئی ہے تاکہ لوگ اشیاء خوردنوش حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد لوگ کو اپنے گھروں کو واپس چلے جانے کے لیے کہا گیا ہے۔ کرفیو میں نرمی کے باوجود میران شاہ کی فضا میں فوجی ہیلی کاپٹر گشت کر رہے تھے اور علاقے میں کشیدگی پائی جاتی تھی۔ شہر میں کسی غیر مقامی کے بغیر اجازت داخل ہونے پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے۔ کھجوری اور ایشا چیک پوسٹ کے کھل جانے کے بعد بہت سے لوگ رزمک سید زئی اور دوسرے ملحقہ علاقوں سے نقل مکانی کرکے بنوں پہنچ رہے ہیں۔ جمعہ کو شمال کی جانب سے بنوں آنے والی شاہراہ پر لوگ چھوٹے چھوٹے قافلوں کی صورت میں بنوں کی طرف آتے دکھائی دیئے۔ میران شاہ کے قریب میر علی کے قصبے میں بازار کھل گئے ہیں اور بظاہر زندگی معمول کی طرف لوٹتی دکھائی دی۔ سید زئی اور دوسرے علاقوں سے نقل مکانی کرکے آنے والے لوگوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز اور مبینہ شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ | اسی بارے میں میران شاہ: اشیائےخوردنوش کی قلت10 March, 2006 | پاکستان میران شاہ میں تجارت متاثر09 March, 2006 | پاکستان میران شاہ پر جرگہ: حالات کشیدہ08 March, 2006 | پاکستان میران شاہ: ہمارے نامہ نگار نے کیا دیکھا؟08 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||