BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیر ملکیوں کا انخلاء شروع

میران شاہ
حکام کا کہنا ہے کہ وہ کئئ روز سے غیر ملکیوں کو علاقہ چھوڑنے کے لیے کہہ رہے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام نے افغان پناہ گزینوں کو بےدخل کرنے کی کارروائی شروع کی ہے جس کے تحت اب تک بائیس سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

میران شاہ میں مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ان غیرملکیوں کو بار بار علاقہ چھوڑ دینے کے انتباہ کے بعد شروع کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں اب بھی چار سو کے لگ بھگ غیرملکی موجود ہیں جوکہ خطے میں امن و امان کی خرابی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔

ادھر جنوبی وزیرستان میں حکام کے مطابق نیم فوجی ملیشیا فرنٹئیر کور کے تین ہفتے قبل لاپتہ ہونے والے تین سپاہی بخیر و عافیت واپس لوٹ آئے ہیں۔

 حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں اب بھی چار سو کے لگ بھگ غیرملکی موجود ہیں جوکہ خطے میں امن و امان کی خرابی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔

پینتالیس سالہ صوبےدار سلامت شاہ آفریدی اور دو سپاہی خیال مرجان اور میر طالب جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور تیارزہ قلعہ کے قریب زیروہ سکس نامی مورچہ پر تعینات تھے۔

حکام کے مطابق محسود سکاوٹس کے یہ اہلکار اپنے مورچے سے تقریباً ایک کلومیٹر دور تیارزہ قلعہ گھر والوں کو ٹیلی فون کرنے گئے کہ واپسی پر گزشتہ ماہ کی انیس تاریخ کو لاپتہ ہوگئے تھے۔

مقامی لوگ ایک گاڑی میں وہاں موجود چند نقاب پوش افراد پر اغوا کا شک کر رہے تھے۔

پیر کے روز نامعلوم افراد نے انہیں سروکئی کے علاقے میں ایک ویرانے میں چھوڑ دیا جس کے بعد یہ ایک قریبی خاصہ دار چوکی پر پہنچے۔ مقامی انتظامیہ نے ان کی رہائی میں کسی خفیہ معاہدے کو مسترد کیا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ برس دسمبر کے پہلے ہفتے میں بھی وانا بازار سے دو سپاہیوں کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ سپاہی عمر علی خٹک اور اختر زمان بھٹنی کی بعد میں سر کٹی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

ادھر پشاور میں جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے جنوبی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ کو پرتشدد کارروائیوں سے متاثرہ افراد کو فوری طور پر معاوضے کی ادائیگی شروع کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

بیان کے مطابق اس سے علاقے کی عوام کا ایک پرانا مطالبہ پورا ہوجائے گا۔ مقامی قبائلی حکومت سے مبینہ شدت پسندوں یا سیکورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کے لئے معاوضے کا تقاضہ کر رہے تھے۔

اس مقصد کے لئے وفاقی حکومت نے دو سو تیرا ملین روپے سے زائد کی رقم جاری کر دی ہے۔

پشاور میں ہی گورنر سرحد خلیل الرحمان اور وائس چیف آف آرمی سٹاف جنرل احسن سلیم حیات کے درمیان ایک ملاقات میں شمالی وزیرستان کی صورتحال پر غور ہوا۔ اجلاس میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ علاقے سے حکومت مخالف اور دہشت گرد عناصر کو ہر قیمت پر نکال باہر کیا جائے گا۔

 میران شاہکب امن ہوگا؟
قبائلی خطہ ہر حکمران کے لئے دردے سر
میران شاہ میں فوجیہلاکتوں کی حقیقت
میران شاہ: لاشیں کہاں گئیں، وہ کون لوگ تھے؟
اسی بارے میں
میران شاہ میں تجارت متاثر
09 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد