BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 March, 2006, 15:19 GMT 20:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مولانا صادق نور کے مکان پر حملہ

میران شاہ(فائل فوٹو)
میران شاہ میں مبینہ شدت پسندوں اور فوج کی جھڑپوں میں بھاری نقصان ہوا ہے(فائل فوٹو)
شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کو القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب قبائلی مولانا صادق نور کے مکان پر حملہ کیا گیا ہے اور اس کارروائی میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی بھی اطلاع ہے۔

یہ کارروائی صدر مقام میران شاہ سے تقریبا تین کلومیٹر دور خٹی کلے میں کی جا رہی ہے جس میں گن شپ ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیئے جا رہے ہیں اور آخری اطلاعات تک کارروائی جاری تھی۔

مولانا صادق نور کی حکام کو کافی عرصے سے تلاش تھی۔ ان کے مدرسے کے خلاف اس سے قبل بھی کارروائیاں ہوچکی ہیں۔ ادھر پاکستان فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں پہلی مرتبہ حکومت کو مطلوب ایک اور قبائلی مولانا عبدالخالق کے عبداللہ محسود سے تعلقات کی بات کی گئی ہے۔ حکومت مولانا عبدالخالق کو گزشتہ دنوں میران شاہ میں ہونے والی جھڑپوں کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

ادھر میران شاہ سے تیس کلو میٹر دور بویا گاؤں میں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے لیکن کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

دریں اثناء پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام نے افغان پناہ گزینوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ملک سے نکل جائیں۔ میران شاہ میں واقع مقامی ریڈیو سٹیشن کی نشریات میں افغان پناہ گزینوں کو کہا جا رہا ہے وہ اپنے کاروبار بند کر دیں اور علاقہ چھوڑ دیں۔ اس سے قبل بھی افغان پناہ گزینوں کو اس قسم کے نوٹس مل چکے ہیں لیکن ابھی تک ان پر کوئی عمل در آمد ہوتا نظر نہیں آیا۔

اس سے قبل اطلاعات کے مطابق میران شاہ میں پرتشدد کاروائیوں میں مبینہ طور پر ملوث مولانا صادق نور نے اعلان کیا تھا کہ وہ میران شاہ کی پچیس کلومیڑ کی حددو میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔ حکومت کی جانب سے تحریری دھمکی کے بعد مقامی لوگوں کا ایک وفد اتوار کے روز مولانا صادق نور کے گھر گیا اور ان سے درخواست کی کہ علاقے کی حفاظت کے لیے سکیورٹی فورسز پر حملے نہ کریں۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے میران شاہ کے پچیس کلومیٹر کے علاقے میں سکیورٹی فورسز پرحملہ نہ کرنےکے اعلان کا خیر مقدم کیا۔

میران شاہ میں تباہی کے مناظر

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ حکومت صلح صفائی کی باتوں کا خیر مقدم کرتی ہے۔ میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ’شرپسند‘ اپنی کارروائیاں بند کر دیں اور اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کردیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی کئی لوگوں کی عام معافی کا بھی اعلان کر رکھا ہے جس میں کئی غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

پاکستان فوج نے شمالی وزیرستان میں قبائلیوں کو وارننگ دی تھی کہ جس گاؤں سے بھی اس پر راکٹ فائر کیا جائے گا اس پورے گاؤں کے خلاف کارروائی ہو گی۔میران شاہ کے علاقے میں آٹھ روز بعد حالات بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں اور شہر میں کرفیو کی پابندیاں نرم کر دی گئی ہیں۔

پاکستانی افواج سنہ 2004 سے وزیرستان میں موجود القاعدہ سے تعلق رکھنے والے مبینہ غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئی ہیں۔ تاہم حالیہ جھڑپوں کا سلسلہ امریکی صدر جارج بش کے دورۂ پاکستان سے قبل شروع ہوا تھا اور اب تک حکام کے مطابق ان جھڑپوں میں دو سو کے قریب مبینہ شدت پسند اور پانچ فوجی مارے جا چکے ہیں۔

میران شاہ میں فوجیہلاکتوں کی حقیقت
میران شاہ: لاشیں کہاں گئیں، وہ کون لوگ تھے؟
 میران شاہکب امن ہوگا؟
قبائلی خطہ ہر حکمران کے لئے دردے سر
مزاحمت کا بدلتا رخ
طالبان مزاحمت کی زمین تبدیل ہو رہی ہے
وزیرستان فوج قبائلی دلدل میں !
وزیرستان طالبان کے جال میں
اسی بارے میں
بنوں چھاؤنی پر راکٹ حملہ
12 March, 2006 | پاکستان
میران شاہ میں تجارت متاثر
09 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد