میران شاہ میں کرفیومیں نرمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں سکیورٹی حکام نے آٹھ دن سے عائد کرفیو میں مزید نرمی کر دی ہے۔ حکام کے مطابق حالات میں بہتری کی وجہ سے اتوار کو کرفیو میں سات گھنٹے کی نرمی کی گئی ہے۔ پہلے پہل یہ کرفیو چوبیس گھنٹے کے لیئے نافذ تھا تاہم اس میں جمعہ کو پانچ گھنٹے جبکہ ہفتے کو چھ گھنٹے کا وفقہ کیا گیا تھا۔ اتوار کو حکام نے مقامی آبادی کو یہ تنبیہی نوٹس جاری کیا ہے کہ اگر وہ شدت پسندوں کی مدد کریں گے یا انہیں حکام کے حوالے نہیں کریں گے تو انہیں گرفتاری اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ان کا گھر بھی مسمار کیا جا سکتا ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق انہیں شدت پسندوں اور حکام دونوں جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اتوار کو ہی میر علی کے قصبے سے ایک گولیوں سے چھلنی لاش بھی ملی ہے جس پر یہ نوٹ چسپاں ہے کہ’ یہ اسلام کا دشمن اور حکومت کا حامی تھا اور جو بھی اسلام سے دشمنی اور حکومت کی حمایت کرے گا اس کا یہی حشر ہوگا‘۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق علاقے میں سکیورٹی کے حالات بہتر ہو رہے ہیں اور ہفتے کی رات قصبے کے باہر سے فائرنگ کی اکا دکا آوازیں سنائی دی گئیں مگر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ جمعہ کو سکیورٹی افواج نے دعوٰی کیا تھا کہ تیس کے قریب طالبان کے حمایتی مبینہ غیرملکی شدت پسندوں کو میران شاہ کے ایک جنوبی گاؤں میں ایک حملے کے دوران ہلاک کیا گیا ہے۔ بنوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ بنوں چھاؤنی پر بھی ہفتے کو تین راکٹ فائر کیے گئے لیکن ان سے بھی کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ پاکستانی افواج سنہ 2004 سے وزیرستان میں موجود القاعدہ سے تعلق رکھنے والے مبینہ غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئی ہیں۔ تاہم حالیہ جھڑپوں کا سلسلہ امریکی صدر جارج بش کے دورۂ پاکستان سے قبل شروع ہوا تھا اور اب تک حکام کے مطابق ان جھڑپوں میں دو سو کے قریب مبینہ شدت پسند اور پانچ فوجی مارے جا چکے ہیں۔ |
اسی بارے میں بنوں چھاؤنی پر راکٹ حملہ12 March, 2006 | پاکستان حملہ ہوا تو جوابی کارروائی ہوگی:فوج11 March, 2006 | پاکستان ہلاک شدگان دفن، آبادی کی نقل مکانی11 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||