BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 March, 2006, 21:37 GMT 02:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حملہ ہوا تو جوابی کارروائی ہوگی‘
میران شاہ
تازہ کارروائی کے بعد اس علاقے سے بھی نقل مکانی شروع ہوگئی ہے
پاکستان کی فوج نے شمالی وزیرستان میں قبائلیوں کو وارننگ دی ہے کہ جس گاؤں سے بھی اس پر راکٹ فائر کیا جائے گا اس پورے گاؤں کے خلاف کارروائی ہو گی۔

نامہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق سرکاری حکام نے میران شاہ اور میر علی کے قبائل کو ایک خط جاری کیا ہے جس میں ان کو دھمکی دی گئی کہ آئندہ جس گاؤں سے بھی فوج پر راکٹ فائر کیا جائے گا یا وہاں بارودی سرنگیں بچھائی جائیں گی وہاں پر سخت جوابی کارروائی ہوگی۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فوج کی دھمکی کے بعد اور لوگ بھی علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حملہ تو طالبان کریں گے لیکن سزا پوری بستی کو ملے گی۔

گزشتہ ایک ہفتے سے مشتبہ شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جاری جھڑپوں میں ایک سو سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔

میران شاہ سے دو روز قبل ہجرت کر کے بنوں پہنچنے والے محمد نبی نے بی بی سی کوبتایا کہ سکیورٹی فورس والے کہتے ہیں کہ جہاں سے فائرنگ ہوگی جواب میں وہ بھی کارروائی کریں گے۔

محمد نبی کا کہنا ہے کہ ان کی تمام ہمدردیاں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں لیکن ان کا مطالبہ ہے کہ جہاں سے کلاشنکوف سے گولی چلائی جائے وہاں سٹین گن یا جی تھری سے جواب دیا جائے لیکن توپ کا استعمال نہ کیا جائے۔’ہماری ساتھ زیادتی یہ ہے کہ فائر کلاشنکوف سے ہوتا ہے اور جواب توپ سے دیا جاتا ہے جس سے ہمارے بال بچوں کو نقصان پہنچتا ہے اور ہمارے گھر تباہ ہو گئے ہیں‘

درایں اثناء جمعہ کی رات ایک مدرسے پر حملے میں ہلاک ہونے والے گیارہ مقامی افراد کو گزشتہ روز مختلف قریبی دیہات میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ متاثرہ گاؤں سے بھی لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے کل رات میران شاہ کے قریب خٹی کلے میں یہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی تھی۔ اس آپریشن کا ہدف حکومت کو القاعدہ اور طالبان کی مبینہ مدد کے الزام میں مطلوب مولوی صادق نور کا مدرسہ تھا۔

فوجی حکام نے اس حملے میں پچیس سے تیس افراد کی ہلاکت کا دعٰوی کیا ہے تاہم مقامی ذرائع نے صرف گیارہ مقامی طالبان کی ہلاکت کی فی الحال تصدیق ہوسکی ہے۔ ان افراد کی لاشیں مدرسے کی تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے ملی ہیں۔

حکام کے مطابق لاشیں کافی مسخ شدہ تھیں۔ مرنے والوں میں ایک شخص پنجاب کا بھی بتایا جاتا ہے۔ تاہم اس حملے میں کسی غیرملکی کی ہلاکت کے سرکاری دعوے کی آذاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

خیال ہے کہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی اس کارروائی میں حکومت کو مطلوب مولوی صادق نور اور مولوی عبدالخالق محفوظ رہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ افراد حملے سے کچھ دیر قبل وہاں سے چلے گئے تھے۔

میران شاہ میں ہونے والی تباہی

علاقے سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق خٹی اور رغزئی کلے اور قریبی دیہات سے لوگ بڑی تعداد میں میر علی اور دیگر علاقوں کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔ میران شاہ کے ایک رہائشی کے مطابق ان افراد کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔

اس کارروائی کے بعد علاقے میں کشیدگی میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں جمعے کی رات نامعلوم افراد نے سیکورٹی فورسز کی کئی چوکیوں پر حملے کئے جن میں ایک فوجی کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اس تازہ کارروائی کے بعد علاقے میں قبائلیوں میں غم و غصے کی بھی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ قبائلیوں کا کہنا ہے کہ انہیں توقع تھی کہ میران شاہ میں لڑائی کے بعد قدرے امن ممکن ہوسکے گا لیکن اس تازہ کارروائی نے انہیں مزید خدشات سے دوچار کر دیا ہے۔

میران شاہ میں فوجیہلاکتوں کی حقیقت
میران شاہ: لاشیں کہاں گئیں، وہ کون لوگ تھے؟
 میران شاہکب امن ہوگا؟
قبائلی خطہ ہر حکمران کے لئے دردے سر
مزاحمت کا بدلتا رخ
طالبان مزاحمت کی زمین تبدیل ہو رہی ہے
وزیرستان فوج قبائلی دلدل میں !
وزیرستان طالبان کے جال میں
اسی بارے میں
میران شاہ میں تجارت متاثر
09 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد