بنوں چھاؤنی پر راکٹ حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شہر بنوں میں قائم فوجی چھاؤنی پر سنیچر کی رات راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔ مقامی سرکاری ذرائع نے چھاؤنی پر راکٹ حملے کی تصدیق کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سنیچر کی رات دو بجے کے قریب راکٹ حملہ کیا گیا۔ حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی بات کرتے ہوئے امکان ظاہر کیا کہ راکٹ حالیہ چند دنوں میں ہونے والی کارروائی کے دوران فائر کیے گئے ہیں کیونکہ بنوں کی سرحد شمالی وزیرستان سے ملتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ راکٹ غیر آباد علاقے میں گرے ہیں جس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ میران شاہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہاں حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ کم فاصلے سے فائر کیے گئے دو راکٹ فوجی چھاؤنی کے ہیلی پیڈ پر گرے جبکہ ایک راکٹ آفیسر میس کی چھت پر گرا۔ اس کے علاوہ دو پاسکو کی عمارت پر بھی گرے جس سے عمارت کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ حملہ آوروں نے دو مزید راکٹ کینٹ کی شہری آبادی والے علاقے پر بھی فائر کیے لیکن اس سے کسی جانی نقصان کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ وزیر داخلہ شیر پاؤ نے تین اضلاع بنوں، ٹانک اور ڈیرہ اسماغیل خان کو حساس قرار دیا تھا۔ اب ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان بنوں میں حکومت نے پولیس اور رینجرز کی نفری میں اضافہ کیا ہے اور مشکوک افراد کی تلاشی بھی لی جا رہی ہے۔ بازار میں گشت بڑھا دیا گیا ہے۔ پولیٹیکل انتظامیہ نے ایک تحریری نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیاتھا کہ اگر رات کو کسی نےبھی سرکاری چھاؤنی پر حملہ کیا تو جوابی کارروائی میں مذکورہ مقام کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس اعلان کے بعدعلماء کے ایک وفد نے مولانا صدق نور کے گھر پر ان سے ملاقات کی جس کے بعد مولانا صدق نور نے لاؤڈ سپیکر پر اعلان کیا ہے کہ میران شاہ کے اردگرد پچیس کلو میٹر کے علاقے سے حکومت پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں فوجی تنصیبات پر حملہ ناکام بنادیاگیا 25 June, 2004 | پاکستان بنوں، وانا میں راکٹوں سے حملے30 August, 2004 | پاکستان بنوں دھماکہ: فوجی سمیت تین زخمی16 October, 2004 | پاکستان بنوں میں دھماکہ سے ایک ہلاک25 December, 2004 | پاکستان بنوں کے لوگوں میں غصہ06 September, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||