BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 August, 2004, 06:53 GMT 11:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنوں، وانا میں راکٹوں سے حملے
بم
وانا میں حملے کے بعد لوگ راکٹ کا حصہ دیکھ رہے ہیں( فائل فوٹو)
صوبہ سرحد میں حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی شہر بنوں پر پیر کی صبح نامعلوم افراد نے پانچ راکٹ داغے جن سے چھ افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ جنوبی وزیرستان میں اسی قسم کے حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

ادھر شمالی وزیرستان میں گزشتہ دنوں فوجی کارروائی میں ہلاک ہونے والے تین قبائلیوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے ساتھ سرحد پر واقعے بنوں شہر میں یہ راکٹ حملے سوموار کی صبح دو ڈھائی بجے کے قریب ہوئے جن کا ہدف بظاہر فوجی چھاؤنی کا علاقہ تھا۔

پولیس کے مطابق تین راکٹ چھاونی کے قریب شہری علاقے میں جبکہ دو راکٹ ایک ٹیلیفون ایکسچینج اور خفیہ فوجی تحقیقاتی ایجنسی کی عمارت پر گرے۔

شہری علاقے میں مکانات پر گرنے والے راکٹوں سے چھ افراد جن میں تین عورتیں اور ایک بچہ شامل ہے زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی بچے کو جس کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے علاج کے لئے پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔

ماضی میں بھی صوبے کے مختلف شہروں میں اس قسم کے راکٹ حملے ہوئے ہیں لیکن آج تک کسی نے ان کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اِدھر شمالی وزیرستان میں گزشتہ دنوں ایک فوجی کارروائی میں ہلاک ہونے والے تین قبائلیوں کی لاشیں ان کے لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ انہیں پہلے اسلام آباد سے بنوں اور بعد میں ایمبولینس کے ذریعے میر علی سب ڈویژن کے علاقے نورک پہنچایا گیا۔

تئیس اگست کو افغان سرحد کے قریب کی جانے والی مشتبہ طالبان کے خلاف اس فوجی کارروائی میں حکام نے چار غیرملکیوں کو ہلاک کرنے اور ان کی لاشین قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔

مقامی قبائل کے احتجاج کے نتیجے میں یہ لاشیں واپس کی گئیں جنہیں پیر کو ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ حافظ منیر اللہ، حافظ اعظم خان اور احمد حسن نامی ان تین افراد کے جنازے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ ایک مقامی صحافی کے مطابق یہ اب تک کا علاقے کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔

ان ہلاکتوں کے خلاف جمیعت علما اسلام نے کل پورے وزیرستان میں یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

دریں اثنا وانا سے دلاور خان وزیر نے بتایا کے اعظم ورسک کے قریب زلی سکاؤٹس قلعے پر کل رات نامعلوم افراد نے دو راکٹ داغے جوکہ قلعے کے اندر گرے لیکن ان سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ حملے کے جواب میں فوج نے توپوں سے گولہ باری کی۔

اس سے قبل اتوار کے روز بھی وانا میں سکاوٹس کیمپ پر حملے میں ایک سپاہی ہلاک ہوا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد