BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 September, 2003, 11:47 GMT 15:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنوں کے لوگوں میں غصہ

فوجی کارروائی
پاکستان میں اس سے قبل بھی سرحدی علاقوں میں فوجی کارروائی ہوتی رہی ہے

پاکستان کے صوبہ سرحد کے جنوبی شہر بنوں کا ہوائی اڈہ جو گذشتہ روز اچانک جنگی ہیلی کاپٹروں کی تعنیاتی کی وجہ سے ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا، تیسرے روز جمعہ کو بھی پاکستان فوج کے کنٹرول میں رہا۔ اس تعیناتی کے خلاف مقامی لوگوں میں سخت تشویش اور غصہ پایا جاتا ہے۔

تاہم پاکستان فوج کے ایک ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی شہر بنوں میں فوج کی مشقیں ختم ہو گئی ہیں اور واپسی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

صوبائی دارالحکومت پشاور سے تقریبا 190 کلومیٹر جنوب میں بنوں شہر سے ملنے والی تازہ اطلاعات کے مطابق وہاں سے ہیلی کاپٹروں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق جمعہ کی سہ پہر بقیہ ہیلی کاپٹر بھی واپس روانہ ہوگئے۔

اس سے قبل مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وقفے وقفے سے ہیلی کاپٹروں کی پروازوں کا سلسلہ جاری رہا۔ عام شہریوں اور صحافیوں کو ہوائی اڈے کے قریب جانے نہیں دیا جا رہا جبکہ بنوں شہر میں جگہ جگہ ناکہ بندی بھی کی گئی ہے اور حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

بنوں کی اکثر مساجد میں نماز جمعہ کے خطبوں میں علماء نے بھی ان کاروائیوں کی مزمت کی اور اسے بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اس علاقے میں القاعدہ یا طالبان کا کوئی شخص نہیں چھپا اس لئے ایسی کارروائیوں کی ضرورت نہیں ہے۔

بنوں میں یہ کارروائی افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف تقریبا دو برس پہلے شروع ہونے والی امریکی کاروائی کے بعد سے اس علاقے میں پہلی بڑی فوجی نقل وحرکت ہے۔

بعض ذرائع کے مطابق اس اچانک تعیناتی کی وجہ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جانب سے پاک افغان سرحد پر پاکستان کے قبائلی علاقوں انگور اڈا اور شوال سے سیٹلائٹ کے ذریعے باہر کی دنیا کے ساتھ رابطوں کے بارے میں جاننا تھا۔ تاہم موسم کی خرابی کے باعث ایسا نہ ہوسکا اور یہ اقدام بظاہر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس بات کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے پر پاکستان کے علاوہ امریکی فوجی ہیلی کاپٹر بھی موجود تھے۔تاہم حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں یہ معمول کی مشقوں کا حصہ ہے اور ان میں کوئی غیرملکی فوجی شامل نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد