’فوج نے ہسپتال دھماکے سےاڑایا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میران شاہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ہسپتال اور دیگر سرکاری عمارتوں پر طالبان نے قبضہ کیا تھا اور اس لیے حکومت نے ان عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ یہ بات میران شاہ میں فوجی کارروائی سے کاروبار تباہ ہونے کے بعد اپنے اہل خانہ کے بارہ افراد کے ہمراہ دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے بنوں پہنچنے والے محمد نبی نے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ چار مارچ کو سکیورٹی فورسز کے داغے گئے میزائل جب میران شاہ میں سرکاری ہسپتال پر گرے تو مریض بستر چھوڑ کر بھاگے اور ڈاکٹر بھی پریشان ہوگئے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان اونچی اونچی عمارتوں کی آڑ لے کر سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کرتے رہے اور جب ان کو حکومت نے نشانہ بنایا تو ان کے میزائل غلطی سے ہسپتال میں گرے اور مریض پریشان ہوگئے۔ ان کے مطابق حکومت نے میران شاہ کی بیشتر اونچی عمارتوں کو نشانہ بناکر سخت نقصان پہنچایا ہے۔ میران شاہ کے باشندوں کے مطابق فوج نے ایک تین منزلہ نجی ہسپتال سے مریضوں کو نکال کر اسے بارود سے اڑادیا جبکہ شہر کی دیگر بلند عمارتیں جن میں ہسپتال اور ہوٹل بھی شامل ہیں، میں سے کوئی ایسی نہیں تھی جس پر راکٹ نہ لگے ہوں۔ محمد نبی صرف پشتو زبان ہی بولتے ہیں اور اب بنوں میں ایک کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’ پہلے سکیورٹی فورس والے عام لوگوں کو نہیں مارتے تھے لیکن ان دنوں کسی کا خیال نہیں کرتے اور ہر مرنے والے کو شرپسند قرار دیتے ہیں‘۔
یاد رہے کہ جب راولپنڈی میں نیوز کانفرنس کے دوران فوجی ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان سے اس سلسلے میں پوچھا گیا تھا تو اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ’جہاں سے بھی سکیورٹی فورسز پر فائر ہوتا ہے وہاں جوابی فائر کرتے ہیں اور اس میں اگر کوئی عام شہری مرتا ہے تو اس امکان مسترد نہیں کیا جاسکتا‘۔ محمد نبی نے بتایا کہ پہلے مقامی لوگ چیک پوسٹ والوں کو کھانا وغیرہ دیتے تھے لیکن اب ایسا نہیں کرتے۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کی اندھا دھند فائرنگ سے کئی بےگناہ لوگ مارے جاچکے ہیں اور اس وجہ سے عام لوگوں میں سکیورٹی فورسز کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔ محمد نبی کے قریبی رشتہ دار اور ساتویں جماعت میں پڑھنے والے فرحاد اللہ کا کہنا ہے کہ روز روز کے حملوں سے وہ تنگ آگئے ہیں اور ’سکول بھی بند ہیں اور سبق کا بھی مزا نہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’میرے ابو فوت ہوگئے ہیں اور اب چچا جو کہ ایئر فورس میں ملازم ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ پشاور میں داخلہ دلوائیں گے‘۔ میر علی کے ایک مدرسے کے مہتمم مفتی محمودالحسن کا کہنا ہے کہ نہ صرف سکیورٹی فورسز کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے بلکہ طالبان کے حامیوں کے لیے ہمدردی بھی پیدا ہو چکی ہے۔ انہوں نے شمالی وزیرستان میں حکومت کی جانب سے شروع کردہ ترقیاتی منصوبوں کے متعلق دعویٰ کیا کہ ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عوام کی ترقی کے نام پر فوج کی سہولتوں کے لیے رقم خرچ ہوتی ہے اور اگر عوام کے لیے کوئی منصوبہ ہے تو حکومت بتائے کہ انہوں نے کیا کیا ہے؟۔حالات بہتر بنانے کے لیے مفتی محمود نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری طور پر آپریشن بند کرے اور عام لوگوں کے نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے قبائل کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنائے اور اس کی سفارشات کے مطابق معاوضہ ادا کیا جائے۔ ان کے مطابق حکومت اپنا انٹیلی جنس نیٹ ورک بڑھائے اور مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے قبائل سے کہے تو وہ ماضی کی طرح صدیوں سے جاری اپنے رسم و رواج کے تحت انہیں متعلقہ افراد پکڑ کر حوالے کریں گے۔ | اسی بارے میں جنوبی وزیرستان: طالبان دفتر کھولیں گے 14 March, 2006 | پاکستان ’پناہ گزین میران شاہ چھوڑ دیں‘ 13 March, 2006 | پاکستان مولانا صادق نور کے مکان پر حملہ13 March, 2006 | پاکستان بنوں چھاؤنی پر راکٹ حملہ12 March, 2006 | پاکستان ہلاک شدگان دفن، آبادی کی نقل مکانی11 March, 2006 | پاکستان ’حملہ ہوا تو جوابی کارروائی ہوگی‘11 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||