BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 March, 2006, 05:21 GMT 10:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مولانا صادق نور کون ہے؟

میران شاہ(فائل فوٹو)
میران شاہ میں مبینہ شدت پسندوں اور فوج کی جھڑپوں میں بھاری نقصان ہوا ہے(فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف گزشتہ چار برسوں سے جاری کارروائیوں کے دوران کئی مقامی قبائلی مزاحمت کار رہنماؤں کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔

شمالی وزیرستان کے مولانا صادق نور ان مزاحمت کاروں کی صف میں ایک نیا اضافہ ہیں۔

اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں مقامی جنگجوؤں کے رہنما کے طور پر نیک محمد، بیت اللہ اور عبداللہ محسود سامنے آئے تھے۔ان میں سر فہرست ستائیں سالہ نوجوان جنگجو نیک محمد تھے جو حکومت کے ساتھ لڑائی اور بعد میں شکئی میں امن معاہدے کے باوجود بچ نہ پائے اور بلا آخر ایک حملے میں مارے گئے۔

ان کی جگہ حاجی عمر نے لی لیکن اس طرح وہ کھل کر حکومت کے سامنے نہیں آئے جس طرح نیک محمد اپنے سخت بیانات کے ساتھ آیا کرتے تھے۔اگرچہ حاجی عمر کو بھی حکومت سے کافی شکایات ہیں جس کا وہ دبے دبے الفاظ میں وقتا فوقتاً صحافیوں سے اظہار کرتے رہتے ہیں لیکن ذرائع ابلاغ میں نیک محمد کی طرح بیانات کی جنگ سے انہوں نے اب تک اجتناب کیا ہے۔

فوجی آپریشن جب جنوبی وزیرستان میں وزیر قبیلے کے علاقے سے نکل کر محسود
علاقے میں پہنچا تو عبداللہ اور بیت اللہ نے مزاحمتی تحریک کی رہنمائی کی۔ ان میں سے ایک عبداللہ نے ذرائع ابلاغ کا نیک محمد کی طرح پورا پورا فائدہ اٹھایا لیکن بعد میں غیرواضع وجوہات کی بنا پر خاموشی اختیار کر لی جو آج تک قائم ہے۔

عبداللہ کے مقابلے میں قدرے کم قد کے بیت اللہ نے شروع سے میڈیا سے دوری رکھی۔ اب وہ حکومت سے سراروغہ کے مقام پر گزشتہ برس فروری میں امن معاہدے پر دستخط کر کے فوجی حکام سے ’امن کا سپاہی‘ کا لقب بھی پاچکے ہیں۔

ان سب میں ایک بات قدرے مشترک ہے۔ان سب کو القاعدہ کے خلاف جاری کارروائیوں سے قبل اپنے علاقے سے باہر کوئی خاص نہیں جانتا تھا۔یہی بات اب شمالی وزیرستان میں جاری مزاحمت کاروں کے ایک تازہ شخصیت مولوی صادق نور کے بارے میں بھی درست ہے۔

وزیرستان سے باہر کم ہی لوگ ان کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔ میران شاہ کے قریب خٹی کلے کے رہنے والے صادق نور کا پس منظر بھی دیگر مزاحمت کاروں سے کوئی خاص مختلف نہیں۔

پینتالیس سال عمر اور تقریباً سفید داڑھی والے صادق نور بھی افغانستان میں جنگ کا تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ بھی کابل کے شمال میں بگرام کے علاقے میں طالبان کی ایک ٹولی کے سربراہ رہ کر وہ شمالی اتحاد کے خلاف لڑ چکے ہیں۔

بعد میں ان پر الزام ہے کہ وہ افغان صوبے خوست میں امریکیوں کے خلاف طالبان کی حمایت بھی کرتے رہے ہیں۔ ’جہاد‘ سے ان کی رغبت اسی زمانے سے بتائی جاتی ہے۔

اپنے گاؤں میں تقریباً پندرہ برسوں سے ایک مدرسہ بھی چلا رہے ہیں۔ یہ اس گاؤں کا واحد مدرسہ بتایا جاتا ہے جو کافی پرانا بتایا جاتا ہے۔ ان کے سات بھائی ہیں جن میں کئی تبلیغ یا سکولوں میں بطور استاد مصروف ہیں۔

انتہائی اسلامی سوچ کے مالک بتائے جاتے ہیں۔ پردے کے اتنے پابند ہیں کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ آج تک انہوں نے اپنی بھابیوں کو نہیں دیکھا ہے اور نہ ان کے بھائیوں نے ان کی بیوی کو دیکھا ہے۔ شادی شدہ ہیں لیکن اولاد نہیں ہے۔

حکومت کو مطلوب عبداللہ محسود کو تو مجبوری کی وجہ سے گھوڑا ساتھ رکھنا پڑتا ہے تاہم صادق نور کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ شوق کے لئے گھوڑ سواری کرتے ہیں۔ ہر سہ پہر وہ اپنے مدرسے کے ساتھ خشک ندی میں گھوڑ سواری کرتے تھے۔

ان کا پہلی مرتبہ نام گزشتہ برس اس وقت کے کور کمانڈر پشاور لیفٹنٹ جنرل صفدر حسین نے ذرائع ابلاغ کے سامنے لیا تھا اور انہیں القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب قرار دیا تھا۔

صادق نور کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ کافی سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں اور اسلامی کتب کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔ ان کا روزگار صرف یہی مدرسہ ہے۔

ان کے مقابلے میں حکومت کو گزشتہ دنوں کی بغاوت میں مطلوب مولوی عبدالخالق کے بارے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ غیرسنجیدہ ہیں۔ ان کی ہر جمعہ کے خطبے کی کیسٹ بھی بازار میں آتی ہے۔ اس کیسٹ میں ’بش، مشرف اور بجلی کے میٹر کی مخالفت‘ ان کے محبوب ترین موضوعات ہیں۔

صادق نور نے بھی اب تک ذرائع ابلاغ سے اپنے آپ کو دور رکھا ہوا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی مزاحمت کے سلسلے میں کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں۔

یہ کارروائی صدر مقام میران شاہ سے تقریبا تین کلومیٹر دور خٹی کلے میں کی جا رہی ہے جس میں گن شپ ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیئے جا رہے ہیں اور آخری اطلاعات تک کارروائی جاری تھی۔

مولانا صادق نور کی حکام کو کافی عرصے سے تلاش تھی۔ ان کے مدرسے کے خلاف اس سے قبل بھی کارروائیاں ہوچکی ہیں۔ ادھر پاکستان فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں پہلی مرتبہ حکومت کو مطلوب ایک اور قبائلی مولانا عبدالخالق کے عبداللہ محسود سے تعلقات کی بات کی گئی ہے۔ حکومت مولانا عبدالخالق کو گزشتہ دنوں میران شاہ میں ہونے والی جھڑپوں کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

ادھر میران شاہ سے تیس کلو میٹر دور بویا گاؤں میں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے لیکن کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

دریں اثناء پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام نے افغان پناہ گزینوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ملک سے نکل جائیں۔ میران شاہ میں واقع مقامی ریڈیو سٹیشن کی نشریات میں افغان پناہ گزینوں کو کہا جا رہا ہے وہ اپنے کاروبار بند کر دیں اور علاقہ چھوڑ دیں۔ اس سے قبل بھی افغان پناہ گزینوں کو اس قسم کے نوٹس مل چکے ہیں لیکن ابھی تک ان پر کوئی عمل در آمد ہوتا نظر نہیں آیا۔

اس سے قبل اطلاعات کے مطابق میران شاہ میں پرتشدد کاروائیوں میں مبینہ طور پر ملوث مولانا صادق نور نے اعلان کیا تھا کہ وہ میران شاہ کی پچیس کلومیڑ کی حددو میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔ حکومت کی جانب سے تحریری دھمکی کے بعد مقامی لوگوں کا ایک وفد اتوار کے روز مولانا صادق نور کے گھر گیا اور ان سے درخواست کی کہ علاقے کی حفاظت کے لیے سکیورٹی فورسز پر حملے نہ کریں۔

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے میران شاہ کے پچیس کلومیٹر کے علاقے میں سکیورٹی فورسز پرحملہ نہ کرنےکے اعلان کا خیر مقدم کیا۔

میران شاہ میں تباہی کے مناظر

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ حکومت صلح صفائی کی باتوں کا خیر مقدم کرتی ہے۔ میجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ’شرپسند‘ اپنی کارروائیاں بند کر دیں اور اپنے آپ کو حکومت کے حوالے کردیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی کئی لوگوں کی عام معافی کا بھی اعلان کر رکھا ہے جس میں کئی غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

پاکستان فوج نے شمالی وزیرستان میں قبائلیوں کو وارننگ دی تھی کہ جس گاؤں سے بھی اس پر راکٹ فائر کیا جائے گا اس پورے گاؤں کے خلاف کارروائی ہو گی۔میران شاہ کے علاقے میں آٹھ روز بعد حالات بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں اور شہر میں کرفیو کی پابندیاں نرم کر دی گئی ہیں۔

پاکستانی افواج سنہ 2004 سے وزیرستان میں موجود القاعدہ سے تعلق رکھنے والے مبینہ غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئی ہیں۔ تاہم حالیہ جھڑپوں کا سلسلہ امریکی صدر جارج بش کے دورۂ پاکستان سے قبل شروع ہوا تھا اور اب تک حکام کے مطابق ان جھڑپوں میں دو سو کے قریب مبینہ شدت پسند اور پانچ فوجی مارے جا چکے ہیں۔

میران شاہ میں فوجیہلاکتوں کی حقیقت
میران شاہ: لاشیں کہاں گئیں، وہ کون لوگ تھے؟
 میران شاہکب امن ہوگا؟
قبائلی خطہ ہر حکمران کے لئے دردے سر
مزاحمت کا بدلتا رخ
طالبان مزاحمت کی زمین تبدیل ہو رہی ہے
وزیرستان فوج قبائلی دلدل میں !
وزیرستان طالبان کے جال میں
اسی بارے میں
بنوں چھاؤنی پر راکٹ حملہ
12 March, 2006 | پاکستان
میران شاہ میں تجارت متاثر
09 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد