BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 March, 2006, 01:15 GMT 06:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: طالبان دفتر کھولیں گے
طالبان
حکومت نے طالبان کے وانا میں دفتر کھولنے کی مخالفت نہیں کی ہے۔
جنوبی وزیرستان میں قبائلی عمائدین نے مقامی طالبان سے کہا ہے کہ وہ وانا میں اپنا دفترقائم کریں تاکہ علاقے سے بدامنی کو ختم جا سکے۔

گزشتہ روز سابق ایم این اے مولانا نور کے مدرسہ جامعہ العلوم میں ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ طالبان وانا میں دفتر کھولیں گے جہاں لوگوں کی شکایت سنی جائیں گی اور قاضی فیصلہ کریں گے۔ اس اجلاس میں مقامی عمائدین اور علماء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

نامہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی نے وانا کی مشہور مذہبی شخصیت مولوی عباس کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان کا دفتر شریعت نافذ کرنے کے لیے نہیں بلکہ امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔

اجلاس میں شریک لوگوں کا کہنا تھا کہ وانا میں اس وقت بدامنی ہے، قتل،ڈاکوں، چوریوں، راہزنی کے واقعات بڑھ گئے ہیں اور منشیات کا کاروبار بڑھ گیا ہے۔

حکومت نے وانا میں طالبان کے دفتر کھولنے کے فیصلے کی مخالفت نہیں کی ہے۔ مولوی عباس کے مطابق انہوں نے مقامی سرکاری حکام سے بھی بات چیت کی ہے۔

انہوں نے کہا طالبان مقامی سرکاری حکام کی امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے میں مدد کریں گے۔

مولوی عباس ایک سال پہلے حکومت کو مطلوب تھے لیکن اب ان کا حکومت سے امن معاہدہ ہو گیا جس میں یہ طے پایا تھا کہ وہ سکیورٹی فورسز پر کسی حملے میں شریک نہیں ہوں اور نہ لوگوں کو اس کی ترغیب دیں گے۔

نامہ نگاروں کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہت فرق ہے۔ شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان حکومت کے خلاف نبرد آزما ہیں جبکہ وانا میں طالبان نے حکومت سے معاہدہ کر رکھا ہے اور اسی معاہدے کے تحت کئی لوگوں کو معافی بھی دی گئی ہے۔

قبائلی علاقوں میں موجود فوج صرف القاعدہ ، طالبان اور غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے جبکہ امن و امان کی صورتحال پر کنٹرول کرنا مقامی پولیٹکل انتظامیہ کی ہے۔

میران شاہ میں فوجیہلاکتوں کی حقیقت
میران شاہ: لاشیں کہاں گئیں، وہ کون لوگ تھے؟
 میران شاہکب امن ہوگا؟
قبائلی خطہ ہر حکمران کے لئے دردے سر
مزاحمت کا بدلتا رخ
طالبان مزاحمت کی زمین تبدیل ہو رہی ہے
وزیرستان فوج قبائلی دلدل میں !
وزیرستان طالبان کے جال میں
اسی بارے میں
بنوں چھاؤنی پر راکٹ حملہ
12 March, 2006 | پاکستان
میران شاہ میں تجارت متاثر
09 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد