BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 March, 2006, 09:29 GMT 14:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانیوں کی ہلاکت پر احتجاج
ہلاک کیے جانے والوں کے لیے مقامی لوگ دعا کرتے ہوئے
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز افغان افواج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سولہ افراد پاکستانی شہری تھے، نہ کہ طالبان جنگجو۔


پاکستانی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان نے کہا کہ یہ سولہ افراد روایتی تہوار نو روز منانے کے سلسلے میں مزار شریف گئے تھے۔ ان کی لاشوں کو واپس پاکستان بھجوا دیا گیا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق ان سولہ افراد کا تعلق نورزئی قبیلہ سے تھا جو کہ سرحد کے دونوں طرف رہتےہیں۔ کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے ترجمان محمد نعیم نے کہا ہے کہ ان سولہ افراد کو گرفتار کرکے ایک جعلی مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار مبشر زیدی کے مطابق پاکستان نے جمعرات کو اسلام آباد میں تعینات افغانستان کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے ان سے بدھ کو افغان افواج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سولہ پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر سخت احتجاج کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان سفیر سے ان ہلاکتوں پر جواب مانگا گیا ہے کہ کس طرح افغان فوج نے ان بے گناہ پاکستانی شہریوں کو طالبان جنگجو قرار دے کر ہلاک کر دیا۔

ان کے مطابق کابل میں تعینات پاکستانی سفیر افغان وزارت خارجہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور افغان حکام سے اس واقعے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ہلاک کیے جانے والوں کی نماز جنازہ
اس سے قبل پاکستانی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان نے کہا تھا کہ یہ سولہ پاکستانی شہری روایتی تہوار نو روز منانے کے سلسلے میں مزار شریف گئے تھے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ان سولہ افراد کا تعلق نورزئی قبیلہ سے تھا جو کہ سرحد کے دونوں طرف رہتےہیں۔

اس سے پہلے افغان فوجی ذرائع نے کہا تھا کہ افغان افواج نے پاکستان کی سرحد کے قریب سپن بولدک میں مشتبہ طالبان شدت پسندوں پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں سولہ مشتبہ طالبان شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔

تاہم افغانستان کے صوبہ قندہار کے گورنر اسد اللہ خالد کے نائب نعمت اللہ خان نورزئی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ان سولہ افراد کو قبائلی تنازعہ کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

افغان حکومت کا کہنا ہےکہ پاکستان طالبان جنگجؤں کو اپنے علاقے میں پناہ لینے سے روکنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ پاکستانی حکام افغان خفیہ اداروں کی کارکردگی پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد