کابل، اسلام چھوڑنے پر مقدمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان دارالحکومت کابل میں ایک شخص پر مذہب اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کرنے کے معاملے پر مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ عبدالرحمٰن پر الزام ہے کہ انہوں نے مذہب اسلام کو رد کیا ہے اور شرعی قوانین کے تحت انہیں اپنا فیصلہ نہ بدلنے کی صورت میں سزائے موت ہو سکتی ہے۔ سولہ برس قبل پاکستان میں پناہ گزینوں کے لیئے عیسائی امدادی ادارے کے ساتھ کام کرنے کے دوران انہوں نے مذہب تبدیل کیا تھا۔ ان کے خاندان نے انہیں چھوڑنے کے بعد بچوں کی تحویل کے معاملے میں عبدالرحمٰن کی مذمت کی تھی۔ یہ افغانستان میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس سے ملک کے اصلاح کاروں اور بنیاد پرستوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی واضح ہوتی ہے۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے چار سال بعد اب بھی افغان عدلیہ میں بنیاد پرستوں کی اکثریت ہے۔ حامد کرزئی کی حکومت اور دیگر اصلاح کار ملک میں آزادانہ اور سیکولر قانونی نظام چاہتے ہیں لیکن موجودہ آئین کے تحت یہ ممکن نہیں۔ عبدالرحمٰن کے خلاف عدالتی کارروائی گزشتہ جمعرات سے شروع کی گئی تھی۔ استغاثہ کا مطالبہ ہے کہ انہیں سزائے موت دی جائے۔ گزشتہ ماہ جب انہیں گرفتار کیا گیا تو ان کے پاس سے ایک بائبل برآمد ہوئی تھی۔ عدالتی جج انصاراللہ کا کہنا ہے کہ اگر 41 سالہ عبدالرحمٰن نے اپنا فیصلہ بدل لیا تو مذہب اسلام کے قانون کے تحت انہیں معاف کردیا جائے گا۔ ایسا نہ کرنے کی سورت میں ان کی دماغی حالت کا تجزیہ کیا جائے گا ۔ جج کا کہنا تھا کہ مقدمے کے فیصلے تک پہنچنے میں دو ماہ لگ سکتے ہیں۔ حقوق انسانی کے افغان ادارے نے عدلیہ کے فیصلوں میں توازن لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ طالبان دور میں کئی صحافیوں پر توہین رسالت کے مقدمات چلائے جاچکے ہیں۔ صدر کرزئی کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اس معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے۔ تاہم فیصلہ عبدالرحمٰن کے خلاف ہونے کی صورت میں مغربی حکومتیں مشتعل ہوسکتی ہیں جنہوں نے کرزئی کو صدر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اب بھی افغانستان کو اربوں ڈالر کی امداد دے رہی ہیں۔ | اسی بارے میں افغان احتجاج، برطانوی دستے07 February, 2006 | آس پاس افغان جلاوطنوں کی برطانوی زندگی14 February, 2006 | فن فنکار کرزئی پاکستان پہنچ گئے15 February, 2006 | پاکستان طالبان، غیر ملکیوں کے قتل کا دعوٰی13 March, 2006 | آس پاس جنگجو کا د ل ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا17 March, 2006 | آس پاس حکومت حامی افغان رہنما ہلاک18 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||