طالبان، غیر ملکیوں کے قتل کا دعوٰی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں طالبان کا ترجمان بتانے والے ایک شخص نے کہا ہے کہ طالبان نے ملک کے جنوب میں چار مغربی باشندوں کو قتل کردیا ہے۔ اس شئص نے کہا ہے کہ ان چار افراد میں سے تین البانوی تھے جبکہ ایک کا تعلق جرمنی سے تھا۔ اس کے مطابق ان افراد کو قندہار سے اس وقت گن پوائنٹ پر پکڑا گیا تھا جب وہ اپنی گاڑیوں پر سفر کررہے تھے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبان رہنما ملا محمد عمر نے ان ہلاکتوں کا حکم دیا تھا کیونکہ ان کے مطابق یہ لوگ امریکہ کی خواہش پر یہاں آئے تھے۔ مقامی انتظامیہ نے ابھی اس خبر کی کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس ملک کے جنوب مشرق میں مشتبہ طالبان شدت پسندوں نے کم از کم چھ پولیس والوں کے سر قلم کر دیے تھے۔ ان افراد کی لاشیں اور کٹے ہو ئے سر کابل سے سات سو کلومیٹر دور ہلمند صوبے سے ملے تھے۔ ان پولیس والوں کو مشتبہ طالبان نے پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر حملے کر کے اغواء کیا تھا۔ ما|ضی میں عراق میں بھی مغربی باشندوں کے اغوا اور قتل کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جنہیں امریکہ سے تعلق کی بنیاد پر قتل کیا جاتا رہا ہے۔ | اسی بارے میں امریکی فوجی: سر قلمی کی تردید03 July, 2004 | آس پاس چھ افغان پولیس اہلکاروں کے سر قلم 10 July, 2005 | آس پاس عراق: امریکی یرغمالی کا سر قلم20 September, 2004 | آس پاس ہلمند: نو افغان پولیس اہلکار ہلاک 22 October, 2005 | آس پاس ہلمند میں اٹھارہ پولیس اہلکار ہلاک11 October, 2005 | آس پاس ’امریکی غلطی‘: چار افغان ہلاک 07 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||