BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 March, 2006, 15:37 GMT 20:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنگجو کا د ل ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا

عائشہ بی بی
میں آج بھی جنگ کے لیے تیار اور لڑائی کی خواہشمند ہوں
افغانستان کے صوبہ بغلان سے تعلق رکھنے والی پچپن سالہ خاتون جنگی سردار عائشہ بی بی عرف’ کفتر‘ سے افغان حکومت کا مطالبہ ہے کہ وہ ہتھیار رکھ دیں۔

عائشہ بی بی کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی اپنے ہتھیار حکام کے حوالے کر چکی ہیں۔ عائشہ بی بی کا یہ بھی کہنا ہے کہ’ میری نظر دھندلا سی گئی ہے اور اب سیدھا نشانہ نہیں لگتا‘۔

تاہم بڑھتی عمر اور اور حکومتی دباؤ کے باوجود ’ کفتر‘ میں لڑنے کا وہ جذبہ جوان ہے جس کے لئیے وہ افغان جنگ کے دوران جانی جاتی تھیں۔ وہ اس بات کو ماننے کے لیئے تیار نہیں کہ افغان معاشرے میں خواتین کا محاذِ جنگ پر لڑنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں آج بھی جنگ کے لیے تیار اور لڑائی کی خواہشمند ہوں۔ اگر آپ کا دل ایک جنگجو کا ہے تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ آپ مرد ہیں یا عورت‘۔

تاہم ’کفتر‘ افغان معاشرے کی اس روایت کے حق میں ہیں کہ وہ گھر سے باہر اکیلی نہ جائیں اور اس لیے وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ دورانِ جنگ ان کا کوئی رشتہ دار ان کے ساتھ جنگ میں حصہ لے۔

کفتر بلغان کے ایک دشوار گزار علاقے میں ایک قلعہ نما گھر میں اپنے چار بیٹوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کے یہ چار بیٹے ان کے وفادار ساتھی ہیں جبکہ دو پہلے ہی ایک جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔

بغلان کا علاقہ ٹینکوں کا قبرستان کہلاتا ہے

’کفتر‘ سویت اور طالبان ٹینکوں کے ڈھانچوں سے اٹے پہاڑی علاقے میں روسی فوج، طالبان اور متعدد مقامی دشمن سرداروں سے جنگ کر چکی ہیں۔ ان کا دعوٰی ہے کہ ان کی کمان میں 150 مسلح افراد ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق ان کے پاس 50 افراد کی ضرورت کا اسلحہ بھی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے غیر قانونی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے پروگرام کے حکام کا کہنا ہے کہ ’ کفتر‘ اور ان کے ساتھیوں کو غیر مسلح کرنے کا عمل آئندہ چند ماہ میں شروع ہو جائےگا۔

افغانستان میں موجود 2000 غیر قانونی مسلح گروہوں کی طرح ’ کفتر‘ اور ان کے ساتھی بھی آسانی سے ہتھیار ڈالنے والے نہیں۔’کفتر‘ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے پستول کے علاوہ تمام بندوقیں پہلے ہی حکام کے حوالے کر دی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہتھیاروں کی حوالگی مہم کے دوران قدیم برطانوی لی انفیلڈ بندوق حوالے کرتے ہوئے انہیں بہت دکھ ہوا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ مسلح گروہوں کی جانب سے ہتھیاروں کی واپسی کی مہم کے دوران سب ہتھیار واپس نہیں کیے گئے اور صرف ناکارہ اور ناقابلِ استعمال ہتھیار ہی جمع کروائے گئے تھے۔ حکام کے مطابق اس کا ثبوت بغلان میں گزشتہ برس ایک جنگی سردار کے اسلحہ کے ذخیرے میں ہونے والے دھماکہ ہے جس کے کے نتیجے میں قریباً پورا گاؤں تباہ ہو گیا تھا۔

سابق جنگی سردار قاری محمد عالم

اسلحہ واپس کرنے والے ایک سردار قاری عالم کا کہنا ہے کہ’جب آپ ہتھیار واپس کر دیں تو کوئی آپ کی فکر نہیں کرتا‘۔ ان کا کہنا ہے کہ’ جنگی سردار ہتھیار رکھنے سے اس لیئے خوفزدہ ہیں کیونکہ ان کے بہت سے دشمن ہیں اور بہت سے لوگوں کو طالبان کی واپسی کا ڈر ہے‘۔

’ کفتر‘ کے بارے میں قاری عالم کہتے ہیں کہ’ کفتر ایک ظالم سردار تھی اور بہت سے لوگ اس کے دشمن ہیں‘۔

اسی بارے میں
افغان جنگی سردار بچ گیا
19 November, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد