افغان سردار، جنگی تشدد کا مجرم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں ایک عدالت نے ایک افغان جنگی سردار کو افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہونے اور متعدد افراد کو یرغمال بنانے کے جرم کا مرتکب ٹھہرایا ہے۔ بیالیس سالہ فریادی زرداد جنوبی لندن کے علاقے سٹریتھم کے رہائشی ہیں۔ لندن کی’اولڈ بیلی‘ عدالت نے اس تاریخی مقدمے میں انہیں افغانستان میں 1991 سے 1996 کے درمیان ایک فوجی چوکی چلانے کا بھی مجرم قرار دیا۔ افغان جنگی سردار فریادی زرداد کابل اور جلال آباد کو ملانے والی ایک سڑک کے نگران تھے۔ فریادی زرداد نے اپنے اوپر عائد تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ انہیں جمعرات کو سزا سنائی جائے گی۔ بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کے جان سمپسن نے اپنے پروگرام میں پہلی بار فریادی زرداد کی لندن میں موجودگی کا انکشاف کیا تھا جس کے بعد برطانوی ممبران پارلیمان کی خواہش پر ’انٹی ٹیرررسٹ پولیس‘ نے معاملے کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ اس مقدمے کے سلسلے میں پولیس افسران نے متعدد بار افغانستان کا دورہ بھی کیا تاکہ زرداد کے ظلم کا نشانہ بننے والے افراد کا پتہ چلایا جا سکے اور انہیں اس کے خلاف گواہی دینے پر آمادہ کیا جا سکے۔ مقدمے کے دوران یہ بھی واضح کیا گیا کہ گو کہ فریادی زرداد نے خود تشدد نہیں کیا تاہم وہ ان افراد کی حرکات کا ذمہ دار تھا جو اس کی چوکی پر کام کرتے تھے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے جس میں گواہوں نے کسی دوسرے ملک سے بذریعہ ویڈیو لنک گواہی دی۔ ظلم کا شکار افغان باشندوں نے کابل میں برطانوی سفارت خانے سے بذریعہ ویڈیو لنک عدالت کو اپنی داستان سنائی۔ ایک گواہ کا کہنا تھا کہ اسے چار ماہ تک قید رکھا گیا اور اتنا مارا گیا کہ اس کے گھر والوں نے اسے پہچاننے سے انکار کر دیا۔ اس مقدمے کے جج کا کہنا ہے کہ وہ ایک ’مشکل اور تاریخی‘ مقدمے میں ملوث رہے ہیں۔ فریادی زرداد 1998 میں ایک جعلی پاسپورٹ پر برطانیہ آئے تھے اور سیاسی پناہ کی درخواست کی تھی تاہم یہ جاننے کے بعد کہ ان کے خلاف افغانستان میں تفتیش کی جا رہی ہے انہوں نے یہ درخواست واپس لے لی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||