BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 July, 2005, 11:20 GMT 16:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگرام: چار خطرناک جنگجو فرار
 بگرام ائر بیس
بگرام ائر بیس پر سینکڑوں افراد کو قید کیا گیا ہے
امریکی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کے ایک اہم اڈے سے چار خطرناک جنگجو فرار ہو گئے ہیں۔

فوجی ترجمان لیفٹینٹ کرنل جیری او ہارا کے مطابق یہ جنگجو کابل کے شمال میں واقع بگرام ائر بیس سے مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے فرار ہوئے۔

 ادھر طالبان نے اس دھماکے کی بھی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں تیرہ افغان فوجی مارے گئے۔ بارودی سرنگ کا یہ دھماکہ صوبہ پکتیہ میں اتوار کی شام ہوا۔ طالبان کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ بارودی سرنگ اس نے نصب کی تھی تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں سالوں سے بارودی سرنگیں لگی ہوئی ہیں

ان کا کہنا تھا کہ ’ فرار ہونے والے چاروں افراد کو دوبارہ گرفتار کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے‘۔

ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ یہ قیدی کیسے فرار ہوئے۔ بگرام کے فضائی اڈے پر سینکڑوں افراد کو قید کیا گیا ہے جس میں زیادہ تر افغان قومیت کے ہیں۔

بگرام ائر بیس پر القاعدہ کی بہت سی اہم شخصیات کو بھی قید کیا گیا ہے جن میں دیگر ممالک کے علاوہ القاعدہ کے پاکستان سے پکڑے جانے والے رہنما بھی شامل ہیں۔

News image
بگرام ائر بیس کا ایک اور منظر

وہ دو منزلہ عمارت جہاں قیدیوں کو رکھا جاتا ہے بگرام ائر بیس کے درمیان واقع ہے اور مرکزی رن وے سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہے۔

امریکی ترجمان نے قیدیوں کی قومیت کے بارے میں کسی قسم کی اطلاعات فراہم کرنے سے انکار کر دیا تاہم افغان حکام کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے تمام قیدی عرب ہیں۔

بگرام کے ایک مقامی سرکاری افسر کا کہنا ہے کہ اتحادی افواج نے انہیں چار افراد کی تصاویر فراہم کی ہیں۔ کبیر احمد نے بتایا کہ ’ تمام قیدیوں کے بال چھوٹے ہیں، داڑھیاں بڑھی ہوئی ہیں اور انہوں نے جیل کا پیلا لباس پہنا ہوا ہے‘۔

لیفٹینٹ کرنل جیری او ہارا نے کہا کہ فرار کے اس عمل کے دوران کوئی امریکی زخمی نہیں ہوا۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تلاشی کے اس عمل میں ہیلی کاپٹر زمینی افواج اور مقامی افغان حکام کی مدد کر رہے ہیں۔

کابل میں بی بی سی کے نمائندے اینڈریو نارتھ نے بتایا ہے کہ اطلاعات کے مطابق 2001 میں طالبان کے زوال کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی فوجی اڈے سے کوئی قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوا ہو۔

ادھر طالبان نے اس دھماکے کی بھی ذمہ داری قبول کی ہے جس میں تیرہ افغان فوجی مارے گئے۔

بارودی سرنگ کا یہ دھماکہ صوبہ پکتیہ میں اتوار کی شام ہوا۔ طالبان کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ بارودی سرنگ اس نے نصب کی تھی تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں سالوں سے بارودی سرنگیں لگی ہوئی ہیں۔

اس کے علاوہ اتوار کو خوست یونیورسٹی میں بھی ایک بم کا دھماکہ ہوا جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد