’ہلاک شدگان میں 17 شہری تھے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک صوبائی گورنر کے مطابق گزشتہ ہفتےمشرقی افغانستان میں امریکی افواج کے فضائی حملوں میں 17 شہری ہلاک ہوئے تھے جن میں عورتیں اور بچے شامل ہیں۔ امریکی طیاروں نے امریکی خصوصی فوج کے چار لاپتہ اہلکاروں کی تلاش میں چیچل گاؤں پر بمباری کی تھی۔ کنڑ صوبے کے گورنر اسداللہ وفا کا کہنا ہے کہ یہ بمباری ایک غلطی تھی اور اس کی تحقیقات کی جانی چاہئے تاکہ مستقبل میں ایسی غلطیاں نہ ہوں۔ لاپتہ فوجیوں میں سے ایک صحیح سلامت مل گیا ہے اور باقی تین کی تلاش جاری ہے۔گمشدہ فوجیوں کی تلاش میں جانے والے ہیلی کاپٹر کو مشتبہ طالبان نے مار گرایا تھا جس میں 16 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔امریکی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ خراب موسم کے باوجود تینوں کی تلاش جاری ہے۔ اسد اللہ وفانے بی بی سی سے کہا کہ ’میرے خیال میں اس گاؤں پر بمباری جان بوجھ کر نہیں کی گئی تھی لیکن پھر بھی ہم امریکی فوج سے جواب چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ امریکی طیارے اب بھی اس علاقے میں گشت کر رہے ہیں لیکن مزید بمباری نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ وہ شہری ہلاکتوں کی مزید تفصیل نہیں بتا سکتے۔ امریکی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے ’ہمارے پاس اس سلسلے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں لیکن ہم حالات کا جائزہ لے رہے ہیں‘۔ گزشتہ ہفتے امریکی فوجی ذرائع نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے بمباری میں کچھ شہری ہلاک ہوئے ہوں۔ ہیلی کاپٹر گرنے کے واقعہ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کو2001میں طالبان کی حکومت کا تختہ پلٹنے کے بعد سےایک ہی واقعہ میں اب تک کا سب سے بڑا امریکی جانی تقصان کہا جا رہا ہے۔ امریکہ نےطالبان کے ترجمان کے اس دعوے کی تردید کی تھی کہ ان لوگوں کو انہوں نے پکڑ رکھا ہے ۔ ہیلی کاپٹر کے واقعہ میں مارے جانے والے تمام 16 امریکی فوجیوں کے تفصیلات جاری کر دی گئی تھیں ۔ حالیہ ہفتوں میں جنوب اور مشرقی افغانستان میں تشدد میں تیزی آئی ہے اس دوران تقریباً 500 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر مشتبہ طالبان ہیں۔ امریکہ نے کنڑ میں مزید فوجی بھیجے ہیں ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||