امریکی کمانڈو کی لاش مل گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے اس خبر کی تصدیق کر دی ہے کہ افغانستان میں لاپتہ ہو نے والے امریکی کمانڈو کی لاش ڈھونڈ لی گئی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ملنے والے شواہد سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ کمانڈو لڑائی کے دوران مارا گیا اور طالبان کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے کہ انہوں نے اس کمانڈو کو گرفتار کرنے کے بعد قتل کیا ہے۔ سینکڑوں امریکی اور افغان فوجیوں نے اس کمانڈو کی تلاش کے لیے کیے جانے والے آپریشن میں حصہ لیا۔ یہ کمانڈو نیوی سِیلز یونٹ کا رکن تھا اور اٹھائیس جون کو صوبہ کنہڑ کے پہاڑی علاقے میں ایک آپریشن کے دوران لاپتہ ہونے والے چار ارکان میں سے ایک تھا۔ ان لاپتہ چار اراکین میں سے ایک کو زندہ بچا لیا گیا تھا جبکہ دیگر دو افراد کی لاشیں مل گئی تھیں۔ گزشتہ ہفتے ملا لطیف حکیمی نے جو طالبان کا ترجمان ہونے کا دعویدار ہیں یہ کہا تھا کہ اس لاپتہ کمانڈو کو طالبان نے گرفتار کر لیا ہے اور کنہڑ صوبے کے شیگال ضلع میں اس کا سر قلم کر دیا گیا ہے تاہم وہ اس سلسلے میں کسی قسم کا ثبوت مہیا کرنے سے قاصر رہے تھے۔ اٹھائیس جون کو ہی طالبان نے ایک امریکی چنوک ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا جس سے اس پر سوار سولہ فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ 2001 میں طالبان کے زوال کے بعد یہ کسی ایک واقعے میں امریکی فوج کا سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔ اس ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے کے بعد امریکی فوج نے صوبہ کنہڑ میں شدید بمباری کی تھی جس میں عورتوں اور بچوں سمیت سترہ شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||