افغان جنگی سردار بچ گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں مبینہ تشدد کی کاروائیوں میں ملوث ایک افغان باشندے کا برطانیہ میں مقدمہ شروع ہونے کے چھ روز بعد ہی ختم ہو گیا کیونکہ جیوری کے ارکان کسی نتیجے پر پہچننے میں ناکام رہے ہیں۔ برطانیہ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ تھا جس میں مبینہ جرم کا ارتکاب برطانوی علاقے سے باہر ہوا تھا۔ ایک عالمی کنوینشن کی رو سے دنیا میں کہیں بھی تشدد کی کاروائیوں میں ملوث شخص اگر اس کنوینشن کو ماننے والے ملک کی دسترس میں آ جائے تو اس کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ افغان باشندہ فریادی سرور زرداد پر الزام تھا کہ وہ نوے کے عشرے میں افغانستان کا ایک جنگی سردار تھا اور اس نے کابل کے قریبی علاقے پر قبضہ کر رکھا تھا۔ استغاثہ نے افغان شہری پر الزام لگایا تھا کہ اس نے اپنے علاقے میں چوکیاں قائم کر رکھی تھیں جہاں لوگوں کو روکا جاتا اور ان سے زبردستی رقم وصول کی جاتی تھی۔ فریادی سرور زرداد نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے کبھی بھی لوگوں پر تشدد نہیں کیا اور نہ ہی اس نے رقم بٹورنے کا جرم نہیں کیا ہے۔فریادی اس وقت برطانیہ میں رہائش پذیر ہے۔ افغان باشندے کا کہنا ہے کہ اس نے چوکیاں اپنی علاقے کی حفاظت کی غرض کی قائم کی تھیں۔ مقدمہ جعمرات کو اس وقت ختم ہو گیا جب آٹھ رکنی جیوری کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکی۔حکومت مقدمے کو دوبارہ شروع کرانے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔۔ اس مقدمے میں گواہوں کے بیان وڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے کے لیے کابل میں برطانیہ کے سفارت خانے میں ایک خصوصی سیل بنایا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||