| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانوں کو غیر مسلح کرنے کی مہم
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے ملک سے اسلحہ ختم کرنے کی ایک مہم شروع کی ہے جس کا ہدف یہ ہے کہ اگلے دو برس میں ایک لاکھ رضا کار فوجیوں یا ملیشیا کو غیر مسلح کیا جائے۔ حامد کرزئی نے اس نئے پروگرام کا اعلان ملک کے شمالی شہر قندوز میں کیا۔ تاہم اس بارے میں ابھی تک شکوک موجود ہیں کہ آیا افغانستان کے جنگی سردار اس منصوبے کے ساتھ تعاون بھی کریں گے یا نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں ملیشیا کے افراد کی تعداد چار لاکھ ہے۔ قندوز میں حامد کرزئی نے ان ایک ہزار لڑاکا افراد کو مبارک دی جنہیں گزشتہ چند دن میں غیر مسلح کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ امن اور تعمیرِ نو کی خاطر جہاد شروع کردیں۔ حامد کرزئی نے ان فوجیوں کو بھی مبارکباد دی جو بقول ان کے تئیس برس سے جنگ کی سختیاں سہتے رہے ہیں۔ وہ لڑنے والے جو اقوامِ متحدہ کے ملیشیا کو غیر مسلح کرنے کے پروگرام میں شریک ہیں انہیں اپنا اسلحہ واپس کرنے پر خوراک اور پیسے دیئے جائیں گے۔ اقوامِ متحدہ کے پروگرام کے آغاز کے ساتھ ساتھ ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ جنگی سرداروں کا مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں کردار بہت اہم ہے اور ان میں وزیرِ دفاع محمد فہیم کو خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ ان کی اپنی ملیشیا ہے۔ ایک اور سینیئر کمانڈر جو شمالی اتحاد کا حصہ ہیں کہتے ہیں کہ ان کے لوگ کسی ذاتی فوج کا حصہ نہیں ہیں بلکہ انتظامیہ کے وفادار ہیں۔ لیکن اس طرح کی یقین دہانیوں کا دوسرے جنگی سرداروں پر زیادہ اثر نہیں پڑا اور وہ ابھی یہی سوچ رہے ہیں کہ اپنی فوج کو اس بات پر آمادہ کریں یا نہیں کہ وہ خود کو غیر مسلح کریں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||