BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 February, 2006, 15:58 GMT 20:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان جلاوطنوں کی برطانوی زندگی

احساس میں محدود بجٹ کو بہتر سے بہتر انداز میں استعمال کیا گیا ہے
برطانیہ میں ان افغانوں کی زندگی پر پہلی فلم بنائی گئی ہے جو برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

یہ افغان شہری گزشتہ 30 سال کے دوران افغانستان میں آنے والے حکمرانوں کے انداز اور تصور حکمرانی کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں اپنا ملک چھوڑ چھوڑ کر برطانیہ آتے رہے ہیں۔

ہیتھرو کے ہوائی اڈے سے بس نمبر ایک سو پانچ آپ کو ساؤتھ ہال کے علاقے لے جا سکتی ہے۔ یہ علاقے ایشیائی اور خاص طور پر ہندوستانی اور پاکستانی برادری کا گڑھ ہے۔

جیسے ہی آپ علاقے کے اندرونی علاقے میں داخل ہوتے ہیں آپ کو رنگا رنگ ساڑھیاں، مزے مزے کے تیکھی کھانے اور ایسی مٹھائیاں نظر آئیں گی کہ آپ یہ بھی بھول جائیں گے کہ برطانیہ میں ہیں۔

یہیں ذرا دور آپ کو ایک پوسٹر دکھائی دے گا لیکن اگر آپ اسے غور سے دیکھیں گے تو اس پر آپ کو ’دری‘ زبان لکھی ہوئی ملے گی۔ یہ زبان افغانستان میں بولی جانے والی فارسی کی ایک شکل ہے۔

ثریا
یہ فلم ایک پناہگزین خاندان کی کہانی ہے

دری زبان میں لکھا ہوا یہ پوسٹر فلم ’احساس‘ کا ہے، جسے ایک افغان پناہ گزین فرید فیض نے لکھا ہے اور ہدایات کار بھی وہی ہیں۔

برطانیہ 1979 میں روسی دراندازی کے بعد سے افغان پناہ گزینوں میں مقبول ترین ملک تھا۔

شروع شروع میں تو صرف وہ افغان برطانیہ آئے جو کھاتے پیتے خاندانوں کے تھے یا جن کے پاس خاطر خواہ وسائل تھے لیکن 1992 کی خانہ جنگی کے بعد پناہ گزینوں کی برطانیہ آمد بہت تیز ہو گئی۔

ان پناہ گزینوں میں فرید فیض بھی تھے جنہوں نے کابل یونیورسٹی سے 1980 کے وسط میں گریجویشن کیا اور اس کے بعد اداکاری کرنے لگے۔

فیض 1997 میں برطانیہ پہنچ پائے جس کے بعد انہوں نے قصائی، باورچی، کلرک اور آخر ٹیکسی ڈرائیوری شروع کی لیکن یہ تمام سخت کوشی بھی ان کی بھی انہیں اس خواب کی تعبیر تلاش کرنے سے نہیں روک سکی کہ انہیں فلم کی طرف لوٹنا ہے۔

احساس کا خاکہ تو لندن ہی میں تیار ہوا لیکن اس کی شوٹنگ ملبورن اور آسٹریلیا میں کی گئی جب کہ اس کی موسیقی کنیڈا میں لکھی اور تیار کی گئی۔

احساس
پوری فلم دری زبان میں بنائی گئی ہے

اس فلم میں ایک جلاوطن خاندان کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ اس میں ایک مایوسی کے مارے باپ کی کہانی ہے جو شراب کا دھتی ہو جاتا ہے۔ اس میں ایک ماں ہے جو خاندان کو پالنے کی جدو جہد کر رہی ہے، ایک بیٹا ہے جو بلیک مارکیٹ کے لیے کام کرتے کرتے منشیات فروشوں کے چنگل میں پھنس جاتا ہے۔

یہ فلم بارہ فروی سے لندن میں دکھائی جا رہی ہے اور اس سے پہلے آسٹریلیا میں بھی دکھائی جا چکی ہے۔

اسی بارے میں
افغان حسینہ نے بازی جیت لی
04 September, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد