BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلسطینی فلم، امریکی اعزاز
فلسطینی فلم کے لیے گولڈن گلوب کا ایوارڈ
فلم کو اسکر ایوارڈ کی غیر ملکوں کی کیٹیگری میں شامل کیا گیا تھا
خودکش بمبار کے متنازعہ موضوع پر بننے والی ایک فلطسینی فلم کو بہترین غیر ملکی فلم کی کیٹیگری میں امریکہ کا اعلٰی ترین فلمی اعزاز گولڈن گلوب ایوارڈ دیا گیا ہے۔

پیراڈائزناؤ نامی یہ فلم غرب اردن کے شہر نابلوس سے تعلق رکھنے والے دو دوستوں کے بارے میں ہے جو اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر تل ابیب میں اسرائیلیوں کے خلاف خودکش بمباری کے لیے پیش کرتے ہیں۔

یہ دونوں اپنے مشن کی صبح ایک دوسرے سے جدا ہوجاتے ہیں جس کے بعد دونوں کو خود فیصلہ کرنا ہے کہ مشن پر عملدرآمد کیسے کیا جائے۔

فلم کے ڈائریکٹر ہانی ابو اسد کا کہنا ہے کہ یہ ایوارڈ ثابت کرتا ہے فلسطینیوں کو آزادی اور برابری سے جینے کا حق ہے۔

اس فلم کو مارچ میں ہونے والے آسکر ایوارڈز میں غیر ملکی فلم کی کیٹیگری میں بھی شامل کیا جائے گا۔

اپنی تقریر کے دوران ہانی ابو اسد نے فلم ڈسٹری بیوٹر وارنر پکچرز کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ ان کا حوصلہ ہے کہ انہوں نے اس فلم کو اس سطح پر متعارف کروایا۔

اس سے قبل بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا تھا کہ یہ فلم ان حالات اور احساسات کی عکاسی کرتی ہے جو انسان کو خود کش حملے کے لیے مجبور کردیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’دشمنوں کو ختم کرنے کے ساتھ اپنی بھی جان لینا دنیا کا خوفناک ترین کام ہے اور اس سے بھی خوفناک بات یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں جو ایسا کرتے ہیں۔‘

فلم ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ فلم حقیقی واقعات پر مبنی نہیں ہے تاہم اس میں حقیقی خودکش حملہ آوروں کے رشتہ داروں اور ناکام خودکش حملہ آوروں کے وکلاء سے تاثرات لیے گئے ہیں تاکہ یہ حقیقت سے قریب تر ہوسکے۔ اس میں اسرائیلی اخباری رپورٹوں سے بھی مدد لی گئی ہے۔

ہانی ابو اسد کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کی موجودہ صورتحال میں یہ فلم بنانا ایک انتہائی مشکل کام تھا۔

اگرچہ اسرائیل کے چند حلقوں نے اس فلم پر تنقید کی ہے تاہم انہیں یہ فلم بنانے کے لیے فنڈز اسرائیل فلم فنڈز ہی نے مہیا کیے تھے۔

ابو اسد کا کہنا ہے کہ فلم کے کرداروں کے بارے میں پائے جانے والے ابہام پر چند فلسطینی حلقوں نے بھی تنقید کی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد