افغان حسینہ نے بازی جیت لی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ازبکستان میں پیدا ہونے والی ایک مسلمان لڑکی نے برطانیہ کی ملکہ حسن کا خطاب جیت لیا ہے۔ حماسہ کوہستانی یہ اعزاز جیتنے والی پہلی مسلمان لڑکی ہیں اور انہیں چالیس امیدواروں میں سے منتخب کیا گیا۔ وہ اب دسمبر میں چین میں ہونے والے عالمی مقابلہ حسن میں حصہ لیں گی۔ اٹھارہ سالہ حماسہ کوہستانی کے والدین افغانستان سے ہجرت کر کے ازبکستان آئے تھے۔ تاشقند میں پیدا ہونے والی حماسہ روسی اور فارسی سمیت چھ زبانیں بول سکتی ہیں۔ اعزاز جیتنے پر ان کا کہنا تھا کہ ’جب انہوں نے میری فتح کا اعلان کیا تو مجھے لگا کہ میں نے سننے میں غلطی کی ہے لیکن ایسا نہیں تھا‘۔ برطانیہ کی پہلی مسلمان ملکہ حسن بننے پر اپنے احساسات کے بارے میں حماسہ نے کہا کہ ’ میں تاریخ رقم کر رہی ہوں اور بہت خوش ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں آخری مسلمان ملکہ حسن نہیں ہوں گی‘۔ مس مایا کے نام سے جانےوالی اس طالبہ کو ایک بھارتی فلم میں کام کرنے کی آفر بھی ہو چکی ہے۔ حماسہ کوہستانی نے اس مقابلے میں ایک اور مسلمان امیدوار کو بھی شکست دی۔ مس ناٹنگھم تیئیس سالہ سارہ مینڈلے اس مقابلے کی فیورٹ امیدواروں میں سے ایک تھیں تاہم وہ حماسہ کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ عراقی نژاد سارہ مینڈلے کی مقابلہ حسن میں شرکت اس وقت متنازعہ ہو گئی تھی جب لیور پول کے اسلامی ادارے نے انہیں اس مقابلے سے دستبردار ہونے کو کہا تھا۔ اسلامی تنظیمیں مقابلہ حسن کے پروگراموں کو غیر اسلامی اور صنفِ نازک کی بے عزتی قرار دیتی رہیں ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||