عریاں تصاویر پر اعزاز واپس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس میں سن دو ہزار چار کے مقابلہ حسن میں ’مس فرانس‘ کا اعزاز جیتنے والی خاتون کو ایک رسالے کے لیے عریاں تصاویر اتروانے پر چھ ماہ کے لیے ان کے اعزاز سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ملکہ حسن کا اہتمام کرنے والی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار کا مس فرانس کا اعزاز جتنے والی خاتون لیتلیا بیلگر کی عریاں تصاویر شائع ہونے پر وہ نہایت مایوس اور حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ مس فرانس کا اعزاز جیتنے والی خواتین مقابلہ حسن کے قوانین کے مطابق چھ سال تک اس قسم کی حرکات میں ملوث نہیں ہوسکتیں۔ انیس سو تراسی میں مس فرانس بننے والی خاتون سے بھی ایک رسالے کے لیے عریاں تصاویر اتروانے پر ان کا اعزاز واپس لے لیا گیا تھا۔ مقابلہ حسن کا اہتمام کرنے والی کمیٹی کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ مقابلہ حسن کے قوانین مس فرانس بننے والی کسی بھی خاتون کی یہ اجازت نہیں دیتے کہ وہ کسی رسالے کے لیے نیم عریاں یا مکمل عریاں تصاویر اتروائیں۔ کمیٹی کی سربراہ نے کہا کہ وہ اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔ مس فرانس کا اعزاز رکھنے والے خاتون کا ایک مقام ہوتا ہے جسے اس کو برقرار رکھنا چاہیے۔ مس بیلگر کو دو ہزار تین کے دسمبر میں مس فرانس کا اعزاز ملا تھا اور اس کے اگلے برس سنڈی فیبغر کو اس اعزاز کا حق دار قرار دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||