پاکستان، افغانستان بس سروس کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بدھ کو ستائیس برس کے تعطل کے بعد دوبارہ باقاعدہ بس سروس کا آغاز ہوا گیا۔ پاکستانی حکام نے پہلی آزمائشی بس کا استقبال سرحدی مقام طورخم پر روایتی خٹک رقص و موسیقی سے کیا۔ اس بس نے اس سلسلے میں افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد سے پشاور کا سفر کیا۔ یہ سروس ایک ایسے وقت شروع ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان ایک مرتبہ پھر تعلقات کشیدہ ہیں۔ دونوں ممالک کے رہنما ایک دوسرے کے خلاف الزامات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ قبائلی ایجنسی خیبر کے مقامی اہلکاروں نے مسافر بس میں آنے والے افغان سرکاری وفد کا استقبال کیا۔ بعد میں پرانی افغان شاہ ظاہر شاہ کے وقت کی مرسیڈیز بس تاریخی درہ خیبر سے ہوتی ہوئی صوبائی دارالحکومت پشاور پہنچی۔ سفید رنگ کی بس پر نیلی دھاریاں تھیں۔ بس کے بڑے شیشے پر افغان صدر حامد کرزئی کی تصویر اور پشتو میں لکھے پاک افغان دوستی زندہ باد کے نعرے والے سفید بینر آویزاں تھے۔ اس بس کے لیئے کیئے جانے والے انتظامات کے بارے میں لنڈی کوتل کے اسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ ریاض خان محسود کا کہنا تھا کہ ان کی دو ذمہ داریاں ہیں۔ ’ایک تو آنے جانے والی بسوں کو قبائلی علاقے میں سیکورٹی فراہم کرنا جبکہ دوسرا ان کے سفری دستاویزات کا معائنہ کرنا۔ اس سلسلے میں ہمارے انتظامات مکمل ہیں۔‘
پشاور پریس کلب میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اختر نواز نے بس کا استقبال کیا۔ متحدہ مجلس عمل کی حکومت ہونے کے باوجود ڈھول کا بھی غیرمتوقع طور پر انتظام کیا گیا تھا۔ پشاور سے ایک بس پرسوں جلال آباد کا آزمائشی سفر کرے گی۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے حکام ان دو مقامات کے درمیان آئندہ ماہ سے روزانہ چھ چھ بسیں چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پہلی بس کے افغان ڈرائیور متین خان نے بدھ کے سفر کو ایک اعزاز قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یکطرفہ سفر کے لئے تین سو روپے کرایہ قدرے کم ہے۔’اگرچہ پرانا کرایہ ہے تاہم بس جائز ہے۔‘ دونوں ممالک کے درمیان نجی شعبے میں مسافر بس سروس تو موجود ہے تاہم باقاعدگی اور سرکاری نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے کچھ زیادہ مقبول نہیں ہے۔ توقع ہے کہ سرکاری سطح پر سروس کے شروع ہونے سے لوگوں میں سفر کا اعتماد بڑھے گا۔ ننگرہار صوبے کے شعبہ ٹرانسپورٹ کے سربراہ عبداللہ وفا اچکزئی پر امید تھے کہ یہ بس سروس ضرور کامیاب ہوگی۔ ’دونوں ممالک کے پرانے روابط ہیں، باہمی تجارت ہے اور بھائی چارہ ہے جس وجہ سے یہ سروس کامیاب ہوگی۔‘ تاہم بس کی کامیابی میں ایک عنصر کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے اور یہ ہے ویزے کے حصول کو عوام کے لئے آسان بنانا۔ افغان صحافی سمی یوسفزئی کا کہنا تھا کہ حکام کو اس سفر کو آسان بنانا ہوگا۔ | اسی بارے میں جلال آباد پشاور بس سروس معاہدہ 23 February, 2006 | پاکستان پاک افغان بس سروس معاہدہ23 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||