ایف سی چوکیوں پر حملے، 4 زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقہ شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ منگل کے روز علی الصبح نامعلوم افراد نے سیکورٹی فورسز کی دو چوکیوں پر حملے کر کے نیم فوجی ملیشیا کے چار سپاہیوں کو زخمی کیا ہے۔ ادھر مقامی مزاحمت کاروں نے ایک چوکی پر صبح تک قبضے کا دعوی بھی کیا ہے جس کی حکام نے تردید کی ہے۔ شمالی وزیرستان میں تازہ حملے صبح سوا تین بجے کے قریب کیے گئے۔ یہ حملے رزمک روڈ پر واقع نیم فوجی ملیشیا فرنٹئر کور کی ٹل اور گوشت چیک پوسٹوں پر کیئے گئے۔ ٹل چیک پوسٹ پر ایف سی کے تین اہلکار جبکہ گوشت چیک پوسٹ پر ایک اہلکار زخمی ہوا ہے۔ سکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی توپوں سے کی۔ قبائلی مزاحمت کاروں کے ایک ترجمان طارق جمیل نے بی بی سی کو ٹیلفون کرکے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی اور سکیورٹی فورسز کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی بھی کیا ہے۔ انہوں نے ایشا چوکی پر صبح تک قبضے اور جاتے ہوئے بھاری اسلحہ ساتھ لیجانے کا بھی دعوی کیا۔ تاہم سیکورٹی حکام نے اس قبضے کی تردید کی ہے۔ ایشا چیک پوسٹ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے دس کلومیٹر کی دوری پر واقعے ہے۔ شدت پسندوں کے ترجمان نے وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کے سینٹ میں بیان پر اپنے ردعمل میں اپنی کارروائیاں بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کی علاقے میں موجودگی تک ان کی جنگ جاری رہے گی۔ ادھر ڈیرہ اسماعیل خان میں منگلو کے روز ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے اتوار کے روز پولیس پر ہوئے حملے کو تخریب کاری قرار دیا۔ ان کا موقف تھا کہ اس واقعے میں قبائلیوں، مذہبی جماعتوں یا طالبان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ انہوں نے صوبے میں پولیس کی نفری کی کمی کو امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار ٹہرایا۔ |
اسی بارے میں ’وزیرستان، طالبان نہیں امن کمیٹی‘16 March, 2006 | پاکستان ’معاملات مذاکرات سے طے کیے جائیں‘17 March, 2006 | پاکستان میران شاہ: فوجی قلعے پر راکٹ حملہ18 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||