شمالی وزیرستان، تشدد، نو ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دو مختلف دھماکوں میں دو بچوں اور دو خواتین سمیت نو افراد ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پہلا دھماکہ اتوار کی شب ٹانک سے پچیس کلو میٹر دور جنڈولہ کے علاقے میں اعظم خان نامی ایک شخص کے گھر پر ہوا۔ اس دھماکے میں اعظم خان کی بیوی، ایک سات سالہ بچہ، پانچ سالہ بچی ہلاک ہو گئے۔ جبکہ اعظم خان کی تین سالہ بھیجی بری طرح زخمی ہوگئی۔ فوری طور پر دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ تاہم پولیس نے دھماکے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ دوسرا دھماکہ ایک بارودی سرنگ کے پھٹنے سے ہوا جس میں مسافروں سے بھری پک اپ تباہ ہو گئی۔ پولیٹکل انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق پیر کی صبح دتا خیل سے ایک پک گاڑی میران شاہ کی طرف آ رہی تھی جو خیر قمر کے مقام پر ایک بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔ بارودی سرنگ کے پھٹنے سے گاڑی تباہ ہو گئی جبکہ اس میں منظر خیل قبیلے کے تین افراد جن میں ایک خاتون بھی شامل اور حیدر خیل قبیلے کا ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔ دھماکے میں ایک شخص موقع پر ہی ہلاک ہو گیا تھا جبکہ تین نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال کے راستے میں دم توڑ دیا۔ دریں اثنا شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں ایف سی اور مسلح قبائلی جنگجؤں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں دو قبائلی ہلاک اور ایف سی کے تین اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ تصادم دوپہر گیار بجے کے قریب اسوقت پیش آیا جب میر علی کے تحصیل دار نے ایف سی اور خاصہ داروں فورس کے تعاون سےدو قبایل سے اسلح اٹھانا کی کوشش کی تو اس دوران وزیر قبائل سے تعلق رکھنے والے دو افراد نے ایف سی پر گولیاں چلا دیں۔ جس کے نتیجے میں ایف سی کے تین اہلکار زخمی ہو گئے۔ ایف سی نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دونوں مسلح جنگجؤں کو ہلاک کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد میر علی کا بازار بند ہو گیا اور لوگوں گھروں میں محصور ہو گئے ہیں۔ | اسی بارے میں وزیرستان: بچے سمیت دو ہلاک30 March, 2006 | پاکستان دتاخیل: ایک فوجی ہلاک، متعدد زخمی02 April, 2006 | پاکستان وزیرستان: حکومت کےحامی عالم قتل02 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||