طالبان: ہلاکتوں کی تصدیق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی شدت پسندوں نے تحصیل میر علی میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ پیر کے روز جھڑپ میں دو ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے تاہم فوجیوں کو نقصان پہنچانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے، مقامی جنگجوؤں کے ترجمان طارق جمیل نے اس سرکاری دعویٰ کے برعکس کہ مارے جانے والے غیرملکی تھے کہا کہ وہ دونوں عام قبائلی تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت طاقت کے استعمال کے ذریعے مشکلات پیدا کر رہی ہے تاہم انہوں نے ان مشکلات کی وضاحت نہیں کی۔ ترجمان نے سکیورٹی فورسز کو نقصان پہنچانے کا بھی دعویٰ کیا۔ شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں پیر کی صبح نیم فوجی ملیشیا فرنٹیر کور اور مسلح جنگجؤں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں دو افراد ہلاک جبکہ ایف سی کے پانچ اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ یہ تصادم اسوقت پیش آیا جب سکیورٹی فورسز نے دو مسلح افراد سے اسلحہ لینے کی کوشش کی۔ بارودی سرنگوں کے ذریعے عام لوگوں کی ہلاکت کے واقعات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں شدت پسندوں کے ترجمان طارق جمیل نے کہا کہ وہ عام شہریوں کے خلاف یہ ہتھیار استعمال نہیں کرتے۔ ان کا موقف تھا کہ وہ بارودی سرنگیں صرف سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لئے کام میں لاتے ہیں۔ ماضی کے برعکس اس مرتبہ جنگجوؤں کے ترجمان نے مختصر بات کرتے ہوئے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اس قسم کے واقعات کے ذریعے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزیرستان میں حالیہ دنوں میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں سے فوجیوں سے زیادہ عام شہری نشانہ بن رہے ہیں۔ پہلے طلبہ کی ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرائی جبکہ پیر کے روز عام قبائلی اس کا نشانہ بنے۔ | اسی بارے میں شمالی وزیرستان، تشدد میں نو ہلاک03 April, 2006 | پاکستان وزیرستان: حکومت کےحامی عالم قتل02 April, 2006 | پاکستان وزیرستان: بچے سمیت دو ہلاک30 March, 2006 | پاکستان فوجی آپریشن میں ٹرانسمٹر تباہ31 March, 2006 | پاکستان حرکت المجاہدین کے سربراہ پر تشدد29 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||