حرکت المجاہدین کے سربراہ پر تشدد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی ایک بڑی کالعدم جہادی تنظیم حرکت المجاہدین کے سربراہ مولانا فضل الرحمن خلیل کو نامعلوم افراد کی طرف سے شدید تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے بعد راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں تشویشناک حالت میں داخل کرایا گیا ہے۔ حرکت المجاہدین کے ترجمان سلطان ضیا نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا فضل الرحمن خلیل کو کل شام اسلام آباد کی ایک مسجد سے نماز مغرب کے بعد کچھ نامعلوم افراد اغوا کر کے لے گئے اور ان پر تشدد کے بعد رات گئے ان کو واپس مسجد کے سامنے پھینک کر چلے گئے۔ ترجمان کے مطابق ڈاکٹروں نے ان کی حالت کو سنگین قرار دیا ہے اور وہ ان کی جان بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس بات کا پتہ نہیں چل سکا ہے کہ حملہ آور کون تھے۔ مولانا فضل الرحمن خلیل کی جماعت کشمیر میں سرگرم عمل رہی اور اس کے بعد افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ بھی اس جماعت کے قریبی روابط رہے ہیں۔ پہلے اس جماعت کا نام حرکت الانصار تھا مگر امریکہ کی جانب سے انیس سو چورانوے میں ’دہشت گرد‘ جماعتوں کی لسٹ میں شامل کیئے جانے کے بعد یہ جماعت ’حرکت المجاہدین‘ کے نئے نام سے دوبارہ سامنے آئی تھی۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اس جماعت کو دو ہزار ایک میں کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے بعد سے یہ تنظیم جمیعت الانصار کے نام سے کام کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمن کو سن دو ہزار ایک کے بعد سے حکومتی ایجنسیوں نے تین سے زائد بار حراست میں لیا مگر بعد میں ان کو چھوڑ دیا گیا۔ | اسی بارے میں ممنوعہ تنظیمیں: کون کیا ہے؟22 November, 2003 | پاکستان سندھ میں دہشت گردوں پر انعامات 25 August, 2005 | پاکستان ڈینیئل پرل کیس، ایک اور گرفتار28 July, 2005 | پاکستان حرکت المجاہدین العالمی: گرفتاریاں24 May, 2004 | پاکستان ممنوعہ تنظیم کے چھ کارکن گرفتار 13 April, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||