سندھ میں دہشت گردوں پر انعامات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ حکومت نے فرقہ واریت اور دہشتگردی میں ملوث چوبیس ملزمان کی گرفتاری پر ایک کروڑ بیس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔ ملزمان میں سے دو کا تعلق القاعدہ، آٹھ کا جنداللہ گروپ اور آٹھ کا لشکر جھنگوی سے ہے۔ صوبائی حکومت کے اعلامیے کے مطابق چوبیس ملزمان میں سے ہر ایک کی گرفتاری پر پانچ پانچ لاکھ انعام رکھا گیا ہے۔ جن کے بارے میں اطلاع دینے والے شہری کو یہ انعام ملےگا جب کہ اس کا نام راز میں رکھا جائے گا۔ ملزمان میں سے قاری شہزاد اور قاری ظفر کا تعلق القاعدہ سے ہے۔ جبکہ اظہر علی ولد منور علی کا تعلق تحریک جعفریہ سے بتایا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق چوبیس ملزمان میں سے احسان اللہ ولد نجیب اللہ، حبیب اللہ خٹک ولد امان للہ، محمد خضر جمال ولد محمد طاہر جمال، جنید عرف جبران عرف جمشید کا تعلق حرکت المجاہدین العالمی سے ہے۔ جبکہ استاد محمد یاسین عرف استاد عرف عثمیٰ اور منصور عرف چھوٹا ابراہیم حرکت الجہاد اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ملزمان میں سے طیب داد خان عرف ساد عرف کاشف، محمد قاسم عرف حمزہ۔ سید کاشف علی شاھ ۔بلال۔حمد اور شہاب کا تعلق جنداللہ گروپ سے ہے۔ سندھ حکومت کو مطلوب ان ملزمان میں قاری جمیل برنی عرف قاری صاحب، فہد عرف قاسم، حافظ قاسم رشید عرف گنجا، مقصود عرف فیصل، محمد علی عرف اختر، ریاض افغانی عرف گلگتی، کاشف عرف شاہین اور شوکت سردار کا تعلق لشکر جھنگوی سے ہے۔ جن میں آصف چھوٹو گروپ، مفتی عید محمد گروپ، عبدل دجنا اور آصف رمزی گروپ کے کارکن شامل ہیں۔ کراچی پولیس کا کہنا ہے مطلوب ملزم کور کمانڈر کے قافلے، امریکی قونصلیٹ، پی اے سی سی اور ٹرینٹی چرچ پر حملوں اور بم دھماکوں گلستان جوہر تھانے پر حملے اور علما کے قتل میں ملوث ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||