’دہشتگروں کو ہیرو مت بناؤ ورنہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ پاکستان نے قومی ذرائع ابلاغ کو خبردار کیا ہے کہ وہ جنوبی وزیرستان کے ’دہشت گردوں‘ اور ان کی کارروائیوں کو غیرضروری اہمیت نہ دے ’ورنہ حکومت سوچے گی کہ کیا کیا جائے‘ پشاور میں چاروں صوبوں کے وزراء اطلاعات کے اجلاس کے اختتام پر ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں ذرائع ابلاغ کے ایک حصے میں’ دہشت گردوں‘ اور ان کی کارروائیوں کو غیرضروری توجہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نہ بتایا کہ چاروں صوبائی حکومتوں نے اس رجحان پر جس میں جنوبی وزیرستان کے ’دہشت گردوں‘ کی کارروائیوں کی مذمت کی بجائے اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے قانون کی دفعات کا بھی حوالہ دیا جن کے مطابق ممنوعہ تنظیموں کی کارروائیوں کو شائع کرنے پر میڈیا کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ چاروں صوبائی وزراء اس پر متفق ہیں کہ میڈیا کو تنبیہ کی جائے کہ وہ دہشت گردوں کو ہیرو کے طور پر پیش کرنے سے گریز کرئے۔ ’اگر اس وارنگ پر توجہ نہ دی گئی تو ہم سوچیں گے کہ کیا کیا جائے۔’ وزیر اطلاعات نے بعض نجی ٹی وی چینلز کی جانب سے چینی انجینیئروں کے اغوا کاروں کے انٹرویو نشر کرنے کی کوشش پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔ شیخ رشید نے چینیوں اور ان کے پاکستانی محافظ کی رہائی کے لئے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف محسود وفود عبداللہ سے مذاکرات کے لئے روانہ ہوئے ہیں اور انہیں امید ہے کہ مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کر لیا جائے گا۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ حکومت اگر چاہے تو ایک منٹ میں کارروائی کر سکتی ہے لیکن اسے چینیوں کی زندگی عزیز ہے۔ وہ ملک کا ایک غلط تاثر دنیا میں نہیں دینا چاہتے۔ خود محسود جانتے ہیں کہ یہ ان کے خلاف انہیں بدنام کرنے کی ایک سازش ہے۔ دریں اثنا عوامی نیشنل پارٹی نے آج جناح پارک پشاور میں جنوبی وزیرستان میں جاری کارروائیوں اور کالا باغ ڈیم کے خلاف ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا۔ جماعت کے رہنماؤں نے وزیرستان آپریشن کو پشتون قوم کے خلاف ایک سازش قرار دیتے ہوئے اسے فوراً بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||