’دہشتگرد، دہشتگرد ہی ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا ہے کہ دہشت گرد، دہشت گرد ہی ہیں چاہے وہ طالبان ہوں یا پاکستانی۔ پیر کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا ہے کہ پانچ اور چھ ستمبر کو وزراء خارجہ کی دلی میں اہم ملاقات سے قبل مبالغہ آرائی پر مشتمل بیان بند کیے جانے چاہیں اور دونوں ممالک میں مذاکرات کے اس اہم دور کو خراب نہیں کیا جانا چاہیے۔ بھارت کے بعض رہنماؤں کے حال ہی میں دیئے گئے ان بیانات جن میں سرحد پار دہشت گردی کے متعلق پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے تھے، تبصرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ایسے بیانات بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے دیے جا رہے ہیں۔ تاہم ترجمان پرامید تھے کہ ایسے منفی بیانات سے مذاکرات کے عمل پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کو مذاکرات کے عمل کے مفاد کی خاطر’تعمیری انداز، میں مصروف رکھنا چاہتا ہے تا کہ تمام متنازع امور بات چیت کے ذریعے حل کیے جاسکیں۔ عبوری سرحد یعنی ’کنٹرول لائن، کو مستقل سرحد تسلیم کرنے کے متعلق الزامات پر ترجمان نے کہا بھارت سے ایسی کوئی ’ڈیل، نہیں ہو رہی اور نہ ہی کوئی ایسی سازش ہورہی ہے۔ بھارت سے ملزمان کے تبادلہ پر سمجھوتے کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں نہ بھارت نے تجویز دی اور نہ پاکستان نے مسترد کی۔ اگنی میزائل کے تجربہ کے متعلق ترجمان نے بتایا کہ بھارت نے انہیں پیشگی معلومات فراہم کی تھی۔ مسعود خان نے القائدہ،طالبان اور مقامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں سست رفتاری کے تاثر اور الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تمام شدت پسندوں کے خلاف ایک ہی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد، دہشت گرد ہی ہیں چاہے وہ طالبان ہوں یا پاکستانی، ان کے مطابق دہشت گردوں کی کوئی شہریت نہیں ہوتی۔ دریں اثناء پاکستان کے نئے وزیراعظم شوکت عزیز نے اپنے بھارتی ہم منصب کو مبارکباد کے خط کے جواب میں لکھا ہے کہ پاکستان ان سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے اور وہ مذاکرات کے جاری عمل کو نتیجہ خیز بنانا چاہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||