چھ مطلوب افراد کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے بدھ کے روز شائع ہونے والے اخبارات میں مبینہ طور پر دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں چھ انتہائی مطلوب افراد کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ ان میں سر فہرست ابو فراج البی عرف ڈاکٹر توفیق ہیں جن کا تعلق لیبیا سے بتایا گیا ہے۔ ان کو پکڑوانے میں مدد پر انعام کی رقم دو کروڑ روپے کا اعلان کیا گیا ہے۔ چھوٹی سی داڑھی والے ابو فراج کی مغربی سوٹ میں ایک تصویر بھی شائع کی گئی ہے۔ دیگر پانچ مطلوب افراد جن کی تفصیلات شائع کی گئی ہیں ان میں ضلع فیصل آباد کے امجد حسین عرف فاورقی (انعامی رقم دو کروڑ روپے)، ضلع ملتان کے مطیع الرحمان عرف صمد (ایک کروڑ روپے)، ضلع شیخوپورہ کے عمر اقدس عرف سہیل (پچاس لاکھ)، ضلع بہاولپور کے قاری احسان عرف شاہد (پچاس لاکھ) اور ضلع کراچی کے نوجوان منصور عرف چھوٹا ابراہیم (پچاس لاکھ) شامل ہیں۔ صفحہ اول پر شائع ہونے والے ان اشتہارات میں بتایا گیا ہے کہ یہ افراد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے مطلوب ہیں۔ ان کے بارے میں اطلاع دینے والے کی شناخت صیغہ راز میں رکھے جانے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ رابطے کے لئے ٹول فری ٹیلی فون نمبرز اور ای میل کا پتہ بھی دیا گیا ہے۔ ابو فراج کے بارے میں تو پاکستانی حکام واضع کرچکے ہیں کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف پر دو قاتلانہ حملوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے مطلوب ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سعودی منحرف اسامہ بن لادن کے ذاتی نائب رہ چکے ہیں اور اب القاعدہ کی مبینہ کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ابو فراج امریکی سی آئی اے کی دس انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں جس کے سر پر پچاس لاکھ امریکی ڈالر کا انعام مقرر ہے۔
دوسرے نمبر پر آنے والے پاکستانی امجد حسین عرف فاروقی حکومت کو امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ صدر مشرف کو ہلاک کرنے کی تیاریوں کے سلسلے میں بھی مطلوب ہیں۔ فاروقی شادی کے بعد اپنی بیوی کے زیورات ’جہاد‘ کی راہ میں خرچ کرنے کی غرض سے نکلے تھے۔ انہیں آخری مرتبہ ان کے گھر والوں نے جنوری سن دو ہزار دو میں دیکھا تھا جس کہ بعد سے وہ لاپتہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے عسکریت پسند تنظیم حرکت الجہاد اسلامی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ وہ طالبان کے ساتھ مل کر شمالی اتحاد کے خلاف افغانستان میں بھی لڑے تھے۔ اس قسم کے دہشت گردی میں ملوث افراد کے اشتہارات پہلے بھی حکومت شائع کر چکی ہے۔ لیکن تازہ اشتہار میں ان افراد کے القاعدہ سے کسی تعلق کا ذکر نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||