BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 November, 2003, 10:18 GMT 15:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممنوعہ تنظیمیں: کون کیا ہے؟

حافظ سعید
حافظ سعید کی تنظیم پر بھی نظر رکھی گئی ہے

پچھلے ایک ہفتے میں پاکستان حکومت نے دو فرقہ وارانہ ، چار مبینہ جہادی اور ایک شدت پسند اسلامی تنظیم پر پابندی عائد کی ہے۔ گو ایک شیعہ فرقہ وارانہ تنظیم کے سربراہ کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن اب تک کسی ایسی تنظیم کے سربراہ کو گرفتار نہیں کیا گیا جو اپنے اعلانات کے مطابق کشمیر جہاد میں سرگرم تھی اور اسی کے نام پر عوام سے چندہ اکٹھا کرتی تھی۔

حکومت نے ایک تنظیم جماعت الدعوۃ (سابقہ لشکر طیبہ) کے بارے میں اعلان کیا ہے کہ اسے نگرانی میں رکھا جارہا ہے۔ اس کے سربراہ حافظ سعید ہیں جو پہلے انجنیئرنگ یونیورسٹی لاہور میں استاد ہوا کرتے تھے۔

جن تنظیموں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے وہ یہ ہیں: ملت اسلامیہ پاکستان( سپاہ صحابہ کا نیا نام) ، اسلامی تحریک پاکستان (تحریک جعفریہ پاکستان) ، تحریک خدام الاسلام (جیش محمد کا نیا نام)، جماعت الفرقان (تحریک خدام الاسلام کا ٹوٹا ہوا ایک گروہ) اور جمعیت الانصار (حرکت المجاہدین کا نیا نام)۔

آخری تینوں تنظیمیں شروع میں ایک تھیں جو ان کے رہنماؤں کے آپس کے اختلافات سے وجود میں آئیں۔ حزب التحریر لبنان سے شروع ہونے والی ایک اسلامی جماعت ہے جو پاکستان میں انیس سو ننانوے سے متحرک ہوئی۔

دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ملت اسلامیہ پاکستان اس وقت بنی جب جنرل پرویز مشرف نے جنوری سنہ دو ہزار دو میں سپاہ صحابہ پاکستان پر پابندی عائد کردی۔ سپاہ صحابہ کا نام پہلے انجمن سپاہ صحابہ تھا۔ اسے انیس سو پچاسی میں جھنگ کے دیوبندی مسلک کے مولانا حق نواز جھنگوی نے بنایا جو خود انیس سو نوے میں قتل کردیے گئے۔

حق نواز کے بعد مولانا ایثار الحق قاسمی اس جماعت کے سربراہ بنے جنھیں انیس سو اکیانوے میں قتل کردیا گیا اور مولانا ضیاء الرحمن فاروقی نے اس کی قیادت سنبھالی۔ اٹھارہ جنوری انیس سو ستانوے میں ان کے قتل کے بعد مولانا اعظم طارق اس جماعت کے سربراہ بنے جو ایک ماہ پہلے اسلام آباد میں قتل کر دیے گئے۔

سپا صحابہ پاکستان سے ٹوٹ کر ایک نیا گروہ وجود میں آیا جس کا نام لشکر جھنگوی رکھا گیا تھا۔ اس پر حکومت پہلے ہی پابندی عائد کرچکی ہے۔ اس کے سربراہ ریاض بسرا کو پچھلے سال افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد پاکستان نے ایک پولیس مقابلہ میں ہلاک کردیا گیا تھا۔

سن دو ہزار دو میں تحریک جعفریہ پاکستان پر پابندی لگنے کے بعد اس کا نام اسلامی تحریک رکھ دیا گیا۔ تحریک جعفریہ جنرل ضیاالحق کے زمانے میں جولائی انیس سو اسی میں شیعہ مسلک کے افراد کے زکوۃ کی جبری ادائیگی کے خلاف کامیاب احتجاج کے نتیجے میں بنی تھی۔ جس کے بانی شیعہ مجتہد علامہ جعفر حسین تھے اور اس وقت اس کا نام تحریک نفاذ فقہ جعفریہ رکھا گیا تھا جسے بعد میں بدل کر تحریک جعفریہ کردیا گیا۔

اس وقت مولانا اعظم طارق کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں زیر حراست مولانا ساجد نقوی اگست انیس سو اٹھاسی میں عارف حسین حسینی کے قتل کے بعد تحریک جعفریہ کے صدر بنے اور اس پر پابندی لگنے کے بعد انھوں نے اسلامی تحریک کی قیادت سنبھالی۔

جن تین تنظیموں پر بعد میں پابندی لگائی گئی ہے ان میں جماعت الفرقان، تحریک خدام الاسلام اور جمعیت الانصار دراصل شروع میں ایک ہی تھیں اور یہ سب کشمیری شدت پسند تنظیمیں سمجھی جاتی تھیں جن میں ٹوٹ پھوٹ کے تیجے میں یہ مختلف گروہ وجود میں آئے۔

جماعت الفرقان اس سال پچیس ستمبر کو وجود میں آئی تھی۔ تحریک خدام الاسلام (سابقہ جیش محمد) کے مولانا مسعود اظہر اور کمانڈر عبدالجبار کے درمیان فنڈز کے معاملات پر اختلافات سے وجود میں آنے والی اس جماعت کے کرتا دھرتا افراد میں عمر فاروق اور مولانا عبداللہ شاہ شامل ہیں۔

کراچی میں دونوں گرہوں کے درمیان اس کے ہیڈکوارٹر کی عمارت کے قبضہ پر اس سال اپریل میں جھڑپ ہوئی تھی جس میں ایک شحص زخمی ہوگیا تھا۔ کمانڈر جبار کے گروہ نے پندرہ لاکھ روپے اور ایک گاڑی لے کر مولانا مسعود اظہر سے علیحدگی کا سمجھوتہ کیا اور نئی تنظیم کے دفاتر قائم کرنے شروع کیے تھے کہ اس پر پابندی لگ گئی۔

اس سال جولائی سے عبدالجبار ٹیکسلا میں ایک چرچ اور مری کے ایک مشنری اسکول پر حملہ میں ملوث ہونے کے الزام میں زیر حراست ہے۔

مولانا مسعود اظہر نے اس سال جولائی میں ایک تیس صفحوں پر مشتمل رپورٹ پریس کو جاری کی تھی جس میں اپنی تنظیم کے دس منحرف ارکان کی شکایت کی تھی اور کہا تھا کہ وہ مجاہدین کے خلاف سازش کررہے ہیں۔ انھوں نے یہ موقف بھی اختیار کیا تھا کہ ان کی تنظیم کے جبار گروپ نے چرچوں پر حملے کیے ہیں۔

کمانڈر خلیل کی جمعیت الانصار ، دیوبندی جہادی تنظیم حرکت المجاہدین کی بدلی ہوئی شکل ہے۔ اس کو امریکی حکومت نے اکتوبر سنہ دو ہزار ایک میں دہشت گرد قرار دیا تھا اور فورا بعد ہی پاکستان حکومت نے اس کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انیس سو ترانوے میں حرکت المجاہدین نے ایک اور جہادی گروہ سے مل کر حرکت الانصار کی بنیاد رکھی تھی۔

اسی تنظیم سے ٹوٹنے والے دو ارکان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے الفاران نامی تنظیم بنا کر انیس سو پچانوے میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں یورپی سیاحوں کو اغوا کیا تھا تاکہ ان کے بدلے اس وقت ہندوستان کی قید میں مولانا مسعود اظہر اور دوسرے جہادی رہنماؤں کو چھڑایا جا سکے۔ تاہم مولانا مسعود اظہر کو بعد میں ہندوستانی جہاز اغوا کرکے جلال آباد لے جانے والے ہائی جیکروں کے مطالبہ پر رہا کیا گیا اور بعد میں وہ پاکستان آ گئے۔

بعد میں حرکت المجاہدین کے کمانڈر مولانا خلیل نے الفاران گروپ کی مذمت کرتے ہوئے ان سے علیحدگی اختیار کرلی تھی اور حرکت الانصار دو گروہوں میں تقسیم ہوگئی۔ جب مولانا مسععود اظہر رہا ہو کر آئے تو انھوں نے بھی کمانڈر خلیل سے علیحد ہوکر جیش محمد کی بنیاد رکھی۔

حرکت المجاہدین میں ایک اور تقسیم اس وقت ہوئی جب کچھ کمانڈروں نے ایک اور تنظیم حرکت المجاہدین العالمی بنا لی اور فرقہ وارانہ تنظیم لشکر جھنگوی سے تعلق قائم کرلیا۔ اس وقت کمانڈر خلیل نے اپنی تنظیم کا نام بدل کر جمعیت الانصار رکھ لیا۔

حزب التحریر پاکستان میں سنہ دو ہزار میں نمودار ہوئی جب لاہور شہر کے نمایاں مقامات پر بڑے بڑے اشتہاری بورڈ دیکھے گۓ جن پر لکھا تھا خلافت وقت کا تقاضا ہے۔ امریکہ کی شکاگو یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ نوید بٹ اس کے ترجمان تھے اور اس کے دوسرے ارکان میں روانی سے انگریزی بولنے والے یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں سے گریجویٹ اور بظاہر خوشحال نوجوان افراد شامل تھے۔

حزب التحریر کو انیس سو ترپن میں بیت المقدس میں اجامعہ الازہر کے تعلیم یافتہ تقی الدین نبہانی نے قائم کیا جو اس کے نظریہ ساز بھی تھے۔ حزب التحریر جب پاکستان میں سرگرم ہوئی تو اس وقت بھی یہ تمام عرب ملکوں میں اور وسط ایشیائی مسلمان ریاستوں میں ممنوعہ تنظیم تھی۔ اس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس تنظیم کی پاکستان میں شاخ انیس سو نوے میں بنائی گئی تھی۔

حزب التحریر پاکستان میں بظاہر کسی پُر تشدد سرگرمی میں ملوث نہیں اور نہ اس کے کسی رکن پر ایسا کوئی مقدمہ قائم ہوا لیکن اس کےنظریات اسلامی شدت پسندی کی مد میں ضرور آتے ہیں جس میں یہ بات بھی شامل ہے جکہ تمام مسلمان ملک ایک اسلامی خلافت کا حصہ ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد