BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 April, 2006, 12:46 GMT 17:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چالیس قبائلیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

فوجی
وزیرستان میں ہلاکتوں کے بارے میں متضاد دعوے کیئے گئے ہیں
پاکستان میں حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بدھ کو ہونے والی جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں میں قبائلیوں کی تعداد چالیس تھی جبکہ فوجیوں کی تعداد تین تھی۔

صوبائی دارالحکومت پشاور میں جمعرات کے روز قبائلی علاقوں کا انتظام چلانے والے سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق جھڑپیں بدھ کی رات دتہ خیل قلعہ پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد شروع ہوئیں۔ اس حملے میں دو سپاہی حوالدار عمر حیات اور سپاہی شفیع زخمی ہوئے۔

ترجمان نے بیان میں ان جھڑپوں کے دوران گرفتار کیئے جانے والوں کی تعداد نہیں بتائی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان سب کا تعلق شمالی اور جنوبی وزیرستان سے تھا۔

اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرفتار کیئے جانے والے تمام لوگ مقامی قبائلی تھے۔

فوجی حکام نے بدھ کو گرفتار کیئے جانے والوں کی تعداد انیس بتائی تھی۔

بیان کے مطابق گرفتار شدہ افراد نے ابتدائی تفتیش کے دوران حکام کو بتایا ہےکہ حملہ آور جنوبی وزیرستان کی لدھا تحصیل کے علاقے قلندر سے تین ٹرکوں اور دو پک اپ گاڑیوں میں آئے تھے۔ اس حملے میں ملوث افراد کی تعداد ڈیڑھ سو بتائی گئی ہے۔

وزیر ستان سے قبائیلوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا
سرکاری ترجمان نے اس حملے کی قیادت کر رہے افراد کے نام بھی جاری کیئے ہیں۔

ان میں سنگین زدران، مولوی حلیم خوشالی، ثنا اللہ محسود اور بادشاہ گل محسود شامل ہیں۔ ان افراد کے نام پہلی مرتبہ حکومت سامنے لائی ہے۔

گزشتہ روز فوجی حکام نے جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی تعداد سولہ جبکہ فوجیوں کی تعداد چار بتائی تھی۔ حکام نے انیس افراد کو گرفتار بھی کیا تھا۔

تاہم قبائلیوں کے ایک ترجمان نے کسی جانی نقصان سے انکار کیا تھا۔

ادھر ڈیرہ اسماعیل خان سے نامہ نگار دلاور خان وزیر کے مطابق شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے بدھ کی رات کو بھی گولہ باری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے میران شاہ قلعہ پر راکٹ داغے جس کے بعد فوج نے جوابی کارروائی کی۔

راکٹ لگنے سے بجلی کے تین فیڈر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ان میں سٹی ٹو، سپلگا اور تپی کے فیڈر شامل ہیں۔ ان تینوں علاقوں میں بجلی کی ترسیل منقطع ہے۔

حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی لیکن رات کو ہونے والی اس فائرنگ کی آواز سے لوگ سو نہیں سکے۔یہ بڑی آبادی والے علاقے ہیں اور بجلی بند ہونے سے ہزاروں افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں
طالبان: ہلاکتوں کی تصدیق
03 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد