BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 March, 2006, 10:26 GMT 15:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشیدگی برقرار، بازار بند، 25 ہلاک

باڑہ عمارت
خیبر ایجنسی میں کچھ دنوں سے کشیدگی پائی جاتی ہے

پاکستان کے صوبہ سرحد میں واقع خیبر ایجنسی کے شہر باڑہ کے قریب دو مذہبی رہنماؤں کے حامیوں کے درمیان مسلح تصادم کے بعد بدھ کے روز تاحال کوئی پرتشدد واقعہ تو پیش نہیں آیا لیکن کشیدگی برقرار ہے اور بازار بھی بند رہا۔

پیر کی شام کو شروع ہونے والی مسلح جھڑپوں میں مارے جانے والوں کی تعداد اب پچیس ہوگئی ہے۔

مقامی صحافیوں کے مطابق باڑہ شہر میں فرنٹیئر کور اور خاصہ دار فورس کے اہلکار گشت کر رہے ہیں اور دونوں گروپوں کے ایک درجن کے قریب حامیوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ گرفتار شدگاں میں زیادہ تعداد مفتی منیر شاکر کے حامیوں کی بتائی جاتی ہے۔

بدھ کے روز سخت مفتی منیر شاکر کے آٹھ ہلاک شدہ حامیوں کو دفن کیا گیا جبکہ پیر سیف الرحمٰن کے مارے جانے والے اٹھارہ حامیوں کی لاشیں تدفین کے لیے شب قدر اور مٹہ مغل خیل نامی گاؤں لے جائی گئیں۔

مقامی شہریوں نے بتایا ہے کہ مفتی منیر شاکر کی جانب سے قائم کردہ غیر قانونی ایف ایم ریڈیو سٹیشن سے منگل اور بدھ کے روز اعلانات نشر ہوتے رہے کہ پیر سیف الرحمٰن کے حامیوں کی جنازہ کی نماز نہ پڑھی جائے۔

ادھر باڑہ بازار کے تاجران نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے انہیں مکمل تحفظ فراہم نہیں کیا تو وہ غیر معینہ مدت تک ہڑتال کریں گے۔

اہل سنت کے مقامی رہنما مفتی منیر شاکر اور پنج پیری مسلک کے سربراہ پیر سیف الرحمن ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے جاری کرتے رہے اور ایک دوسرے کو زبردستی علاقہ بدر کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ واضح رہے کہ مفتی منیر شاکر اور افغان نژاد پیر سیف الرحمٰن کے حامیوں میں کئی ماہ سے مذہبی عقائد کی بنیاد پر کشیدگی جاری ہے۔

 مقامی صحافی اور عینی شاہدین ہلاک ہونے والوں کی تعداد پچیس بتا رہے ہیں جبکہ قبائلی علاقوں کے سرکاری ترجمان شاہ زمان نے تاحال تئیس ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

دونوں نے اپنے عقائد کی تبلیغ کے لیے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو سٹیشن قائم کر رکھے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف سخت پروپیگنڈہ بھی کرتے رہتے ہیں۔

ایسی صورتحال کے پیش نظر پچھلے تین ماہ کے دوران اس علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا رہا۔ مفتی منیر شاکر مقامی ایف ایم ریڈیو پر لوگوں سے کہتے رہے ہیں کہ پیر سیف الرحمٰن غیر ملکی ہیں اور انہیں اور ان کے حامیوں کو علاقے سے نکالنا ضروری ہے۔

پیر کی شام کو مفتی منیر کے سینکڑوں حامیوں نے پیر سیف الرحمٰن کے گھر پر حملہ کیا تھا اور اس تشدد میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کچھ افراد کا تعلق افغانستان سے ہے۔

پیر سیف الرحمان کے حامیوں نے چند گھنٹے بعد باڑہ میں مفتی منیر شاکر کے حامیوں پر جوابی حملہ کیا اور ان کے سات حامیوں کو ہلاک کردیا تھا۔

ایک مقامی صحافی نے بتایا ہے کہ شہر میں ان دونوں فرقوں کے درمیان ہونے والی مسلح جھڑپ میں کئی اور افراد بھی ہلاک اور زخمی ہوئے۔

واضح رہے کہ اس جھگڑے کا شمالی وزیرستان میں جاری طالبان کے حامی شدت پسندوں اور حکومتی سیکورٹی فورسز کی جھڑپوں سے نہیں ہے۔ بلکہ باڑہ کے دونوں مذہبی اشخاص علاقے میں اپنا اثر رسوخ زیادہ زیادہ سے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

ایف ایمباڑہ میں نیا فساد
ایف ایم ٹیکنالوجی کا فرقہ ورانہ استعمال
اسی بارے میں
مذہبی گروہ پر کارروائی معطل
25 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد