BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 March, 2006, 13:48 GMT 18:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی وزیرستان: چار اہلکار زخمی

میران شاہ
گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں جھڑپوں کے دوران بیس سے زیادہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں
پاکستان کی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ آج صبح مقامی فورس یعنی خاصہ داروں کی ایک گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے چار اہلکاروں کو زخمی کردیا۔

ادھر میران شاہ میں افغان باشندوں کے خلاف جاری کارروائی میں اب تک ایک سو سے زائد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز پر حملے روزانہ کا تقریباً ایک معمول بن چکے ہیں۔ سنیچر کو تازہ حملہ شمالی وزیرستان میں داخل ہونے کے راستے پر کھجوری اور میر علی کے درمیان پیش آیا۔

عینی شاہدین کے مطابق ایک سیاہ شیشوں والی گاڑی میں سوار مسلح افراد نے مقامی فورس یعنی خاصہ داروں کی ایک گاڑی پر گولی چلا دی جس سے چار سپاہی زخمی ہوگئے۔ تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

زخمی ہونے والے چاروں خاصہ داروں کو بنوں کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ایک زخمی سپاہی غریب نواز کی حالت تشویشناک ہے۔ اسے سینے اور کندھے سمیت جسم کے مختلف حصوں پر چار گولیاں لگیں تھیں۔

زخمی ہونے والوں میں سپاہی غریب نواز کے علاوہ حوالدار گلا بند خان، سپاہی لالی جان اور سپاہی محمد نواز شامل ہیں۔

ادھر سرحدی علاقے برمند میں نامعلوم افراد نے سیکورٹی فورسز کی ایک چوکی پر راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔ سیکورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی کی تاہم اس جھڑپ سے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

صدر مقام میران شاہ میں اس ماہ کے اوائل میں لڑائی کے بعد سے مقامی انتظامیہ نے افغان باشندوں کے خلاف جو کارروائی شروع کر رکھی ہے اس میں اب تک ایک سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان افراد کو مختلف تحقیقاتی اداروں کی مشترکہ ٹیم کے حوالے کیا جائے گا اور حکومت کو مطلوب نہ ہونے کی صورت میں ملک بدر کر دیا جائے گا۔

تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان افغانوں میں اکثریت تاجروں کی ہے جو کاروبار کی غرض سے آتے جاتے رہتے ہیں۔

جمعرات کی رات دتہ خیل میں سیکورٹی فورسز کی ایک چوکی پر حملے کے سلسلے میں علاقائی ذمہ داری کے قانون کے تحت بھی قبائلیوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات ہیں۔

صوبائی دارالحکومت پشاور کے قریب تاروجبہ میں جماعت اسلامی کے سہ روزہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے وزیرستان میں فوجی کارروائی اس سے قبل کے دیر ہوجائے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج وزیرستان اور بلوچستان میں قتل کیئے جانے والوں کو کل کوئی جنرل شہید کہےگا۔ ’اس لیئے حکمرانوں کو آنکھیں کھولنی چاہیں اور ایسی غلطیاں نہیں کرنی چاہیں جن پر مستقبل میں شرمندگی اٹھانی پڑے۔‘

اسی بارے میں
ایک فوجی ہلاک، پانچ زخمی
24 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد