ایف ایم ٹیکنیک: فرقہ ورانہ فساد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں ایف ایم ٹیکنیک کے غیر قانونی استعمال نے فرقہ ورانہ فساد کا سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اہل سنت اور پنج پیری فرقوں کے علماء کے فرقہ ورانہ مباحثے نےایک دوسرے کے خلاف جہاد کے اعلان کی شکل اختیار کر لی ہے۔ دونوں فرقوں کے علماء کچھ عرصے سے مقامی ساختہ ایف ایم سٹیشن کو استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے جاری کر رہے تھے۔ مگر صورتِ حال اس وقت بگڑ گئی جب اہل سنت کے مقامی رہنما مفتی منیر شاکر نے باڑہ بازار میں اپنے ہزاروں مسلح پیرو کاروں کے ایک جلسہ میں پنج پیری مسلک کے سربراہ پیر سیف الرحمن کو ایک ہفتہ کے اندر علاقہ چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ پیر سیف الرحمن کے بیٹے محمد سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ اصل میں جھگڑے کی نوعیت مذہبی ہے ۔انکے بقول ’مخالف پنج پیری مسلک کے سربراہ ایف ایم سٹیشن پر نشریات کے وقت ہمارے دینی عقائد کو جٹھلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یارسول اللہ کہنا، مُردوں کی زیارت کرنا، کسی کے ہاتھ کو بوسہ دینا اور پیری مریدی اسلام کے رو سے شرک کے مترادف ہیں جبکہ ہم ان تمام اعمال کو اسلامی عقائد کا حصہ سمجھتے ہیں‘۔ محمد سعید نے کہا کہ انکے والد پیر سیف الرحمن کسی صورت میں علاقہ نہیں چھوڑیں گے اور ان کے ہزاروں پیروکار انکے ساتھ ہیں۔ دوسری طرف خیبر ایجنسی سے رکن قومی اسمبلی مولانا خلیل الرحمن کا مصالحتی جرگہ دونوں فرقوں کے علماء کے درمیان مصالحت کرانے میں ناکام ہو گیا ہے۔ مولانا خلیل الرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ باڑہ میں حالات بہت خراب ہیں اور اگر مسئلہ حل نہ ہوسکا تو دونوں فرقوں کے درمیان جھگڑے میں ہرگھر سے جنازہ اٹھنے کا ڈرہے کیونکہ ہرگھر میں دونوں فرقوں کے پیروکار موجود ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پولیٹیکل انتظامیہ کو سب سے پہلے دونوں طرف سے ایف ایم کے نشریات بند کرنے چاہیں۔ ہم نےجب حکومت سے اس سلسلے میں بات کرنے کی کوشش کی تو کامیاب نہ ہوسکے البتہ محمد سعید نے بتایا کہ پولٹیکل انتظامیہ نے مصالحت کرانے کی خاطر آئندہ بدھ کو دونوں فرقوں کے علماء اور عمائدین کو بلایا ہے۔ بی بی سی کو حاصل ہونے والی ایک خفیہ حکومتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں تقریبا نوے مساجد اور مدارس میں غیر قانونی ایف ایم سٹیشن کام کررہے ہیں۔ رپورٹ کیمطابق زیادہ تر غیر قانونی ایف ایم سٹیشن صوبہ سرحدکے ضلع صوابی میں ہیں جہاں چھبیسں مساجد اور مدارس سے دینی پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹ کے مطابق چارسدہ میں گیارہ، بونیر میں آٹھ، دیر زیریں اور پایاں میں بارہ اور قبائلی علاقوں میں مجموعی طور پر اٹھائیس ایف ایم سٹیشن دینی موضوعات پر پروگرام نشر کرتے ہیں۔ ان ایف سٹیشنوں کی نشریات دس سے تیس کلومیٹر تک سنی جاسکتی ہیں۔ رپورٹ میں ضلع وار ان مساجد اور مدارس کے نام درج ہیں جہاں یہ ایف ایم سٹیشن قائم ہیں۔ پشاور میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ کیپٹن محمد آصف نے ان غیر قانونی ایف سٹیشن کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان ٹسیشنوں کی تعداد وقتا فوقتا گٹتھی اور بڑھتی رہتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مساجد اور مدارس میں قائم ایف ایم سٹیشن کے نشریاتی آلات مقامی سطح پر عام الیکٹریشن بناتے ہیں جنکی قیمت چھ سے لیکر دس ہزار روپے تک ہوتی ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ نشریاتی آلہ ایک فٹ جگہ گھیرتا ہے جن میں ایک ایملیفائر،ایک ریسیور اور مائیک ہوتا ہے اور باآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجایا جاسکتا ہےاور بقول انکے یہی وہ وجہ ہے کہ چھاپے کے دوران پولیس کو کچھ ہاتھ نہیں آتا ہے۔ کیپٹن آصف نے کہا کہ مساجد اور مدارس میں یہ ایف سٹیشن قرآن کی درس وتدریس کے علاوہ آپس کے سیاسی مناقشوں اور پیروکاروں کی تعداد بڑھانے کیلیے استعمال ہوتے ہیں جبکہ علماء دلیل پیش کرتے ہیں کہ ایف ایم پر وہ اپنی دینی باتیں گھروں میں بیٹھی ہوئی ان خواتین تک موثر انداز میں پہنچاسکتے ہیں جو مسجد نہیں آسکتیں ۔ انھوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں فرقہ ورانہ مقاصد کیلیے بھی پروگرام نشر کرتے ہیں اور غیر قانونی ہونے کی وجہ سے پیمرا کے قانونی دائرہ کار میں نہیں آتے۔ پیمراہ کے صوبائی سربراہ کیمطابق انھیں ایسی شکایات بھی ملی ہیں کہ ایف ایم کی فریکونسی پولیس کے وائرلس سسٹم کو بھی متاثر کررہی ہے۔انکے بقول انتظامیہ کو مساجد اور مدارس میں نصب ایف ایم سٹیشن بند کرنے چاہیں اور خود انھوں نے بھی پیمرا کی طرف سے آزمائشی طور پر ایسے آلات نصب کرنے کا پروگرام بنایا ہے جسکے ذریعےسے ایف ایم کی فریکونسی کو جام کیا جاسکے۔ کہا جاتا ہے کہ صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی وجہ سے انتظامیہ کھل کر مدارس اور مساجد میں قائم ان ایف ایم سٹیشنوں کے خلاف قدم نہیں اٹھا سکتی۔ | اسی بارے میں زلزلہ سے میڈیا بری طرح متاثر16 November, 2005 | پاکستان بی بی سی اردو کی نشریات پر پابندی15 November, 2005 | پاکستان سینیٹ کے اندر اور باہر پیمرا کی مذمت15 November, 2005 | پاکستان چھ نئے ایف ایم ریڈیو سٹیشن 22 October, 2005 | پاکستان ’پیمرا آرڈیننس بڑا دھچکا ہے‘ 19 May, 2005 | پاکستان پیمرا کو غور کرنے کی ہدایت14 April, 2005 | پاکستان مست ’ٹیم‘ کی رہائی11 November, 2004 | پاکستان بی بی سی کی خبروں پر پابندی 01 April, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||