بی بی سی کی خبروں پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی اردو سروس نے، پاکستان میں اپنے پارٹنر سٹیشن مست ایف ایم 103 پر نشر ہونے والے نیوز بلیٹن کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مست ایف ایم 103 پچھلے تقریباً دس ماہ سے بی بی سی اردو کے نیوز بلیٹن ہر گھنٹے پر کراچی، لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں براہ راست نشر کرتا رہا ہے۔ پاکستان میں نشریات کی نگرانی کرنے والا حکومتی ادارے پیمرا، مست ایف ایم کو بلیٹن بند کرنے کا حکم سنا چکا ہے کیونکہ پیمرا کی نظر میں یہ خلاف قانون ہے۔ پیمرا نے مست ایف ایم کو بی بی سی بلیٹن بند کرنے کے لیے دو اپریل تک کی مہلت دے رکھی ہے، اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں اس کا لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ مست ایف ایم نے اس حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے اور عدالت نے مقدمے کی سماعت کے لیے چودہ اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔ لہذا بی بی سی اردو سروس نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعہ کو نصف شب سے اس وقت تک یہ بلیٹن نشر نہیں کیے جائیں جب تک صورت حال واضح نہیں ہو جاتی۔
بی بی سی ورلڈ سروس کے علاقائی سربراہ عباس ناصر نے اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ہم چھ ہزار کے قریب بلیٹن نشر کر چکے ہیں جن کے بارے میں نہ صرف یہ کہ کبھی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی، بلکہ سامعین نے ان بلیٹن کی زبردست پذیرائی کی ہے جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ عباس ناصر نے مزید کہا کہ وہ پاکستانی حکام سے رابطے میں ہیں اور انہیں امید ہے کہ جلد ہی یہ مسئلہ سلجھا لیا جائے گا اور پاکستانی سامعین کو بے لاگ، مستند اور متوازن خبروں تک رسائی سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||