| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور کے طلبا کا اپنا ریڈیوسٹیشن
پاکستان کے کسی بھی تعلیمی ادارے کے اپنے ایف ایم ریڈیو سٹیشن نے یورنیورسٹی آف پشاور میں کام شروع کر دیا ہے۔ اس طرح اس نے ملک میں اپنی نوعیت کے پہلے سٹیشن کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ایف ایم 107 کیمپس ریڈیو نامی اس سٹیشن کا افتتاح سنیچر کے روز پشاور میں ایک تقریب میں ہوا۔ جرمن اور امریکی حکومتوں کے علاوہ اس ملک میں انوکھے منصوبے میں یونیورسٹی کو مختلف غیر سرکاری بین الاقوامی تنظیموں کی مدد بھی حاصل رہی۔ اس سٹیشن کا بنیادی مقصد تو یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں زیرِ تعلیم طلبہ کو غیر عملی کے ساتھ ساتھ عملی تربیت دینا ہے۔ لیکن اس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسے سننے والوں کو بھی مختلف موضوعات پر معلومات اور تفریح میسر آسکے گی۔ شعبہ صحافت کے سربراہ ڈاکٹر شاہجہان سید نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ یہ پاکستان میں ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کا پہلا سٹیشن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے علاوہ اس سے افغان طلبہ پہلے ہی فائدہ اٹھا رہے ہیں اور اب وسطی ایشیا کے طلبہ کو بھی جلد یہاں تربیت کی دعوت دی جائے گی۔ یہ سٹیشن شعبہ صحافت کے میڈیا سنٹر میں قائم کیا گیا ہے لیکن افتتاحی تقریب میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹنٹ جنرل (ر) ممتاز گل نے اس کے لئے دو لاکھ روپے کی رقم کے علاوہ ایک الگ عمارت کا بھی وعدہ کیا ہے۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے غیر سرکاری تنظیم انٹر نیوز کے پاکستان میں سربراہ عدنان رحمت نے اسے ملک کے لئے ایک ماڈل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اب تک ساٹھ نجی ایف ایم ریڈیو سٹیشنز کو لائسنس جاری کر دیے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں تربیت یافتہ ریڈیو ماہرین کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوگا۔ ’یہ اس طرح کے کیمپس سٹیشن ہی ہیں جو اس ضرورت کو پورا کرنے میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔’ جب اس منصوبے کے روح رواں شعبہ صحافت کے سربراہ ڈاکٹر شاہجہان سید سے پوچھا گیا کہ انہیں اس سٹیشن چلانے میں انہیں کیا مسائل درپیشہو سکتے ہیں تو ان کا بھی کہنا تھا کہ تربیت یافتہ افراد کی کمی کا۔ ابتدائی طور پر یہ سٹیشن روزانہ تین گھنٹے کی تجرباتی نشریات شروع کر رہا ہے جس میں شعبے میں ہی زیرتعلیم طلبہ کے بنائے ہوئے معلوماتی پروگرام موسیقی کے تڑکے کے ساتھ پیش کئے جائیں گے۔ افتتاحی تقریب میں جرمنی کے پاکستان میں سفیر کرسٹوف برومر بھی شریک ہوئے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے اسے ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے اس کے لئے تین خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ سٹیشن کو وہ تمام آزادیاں حاصل ہوں جو معلومات اور تفریح کو عوام تک پنچانے کے لئے ضروری ہیں، دوسرا اس میں کام کرنے والوں کو ان کی ذمہ داری کا احساس ہوگا اور تیسرا اسے سننے والے اس سے بھرپور استفادہ اٹھا سکیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||