BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پیمرا آرڈیننس بڑا دھچکا ہے‘

قومی اسمبلی اسلام آباد
قومی اسمبلی نے ’پیمرا‘ کے آرڈیننس میں ترمیم کا بل منظورکرلیا ہے
پاکستان کی قومی اسمبلی سے ’پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی، یعنی ’پیمرا، کے آرڈیننس میں ترمیم کے بل کی منظوری کو ’انٹر نیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس، یا آئی ایف جے نے آزادی اظہار کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔

دنیا کے ایک سو دس ممالک کے پانچ لاکھ صحافیوں کی نمائندہ تنظیم ’آئی ایف جے‘ کے صدر کرسٹوفر ویرین نے جمعرات کے دن ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس ترمیمی بل کی منظوری دے کر قومی اسمبلی نے براڈ کاسٹ میڈیا کے گرد حکومتی گھیرا تنگ کرنے کے لیے ایک سٹیج سجادیا ہے۔‘

انہوں نے حکومت کے اس دعوے کو دکھاوا قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’کراس میڈیا‘ پر پابندی ہٹانے کے لیے یہ ترمیمی بل منظور کیا گیا ہے۔

’آئی ایف جے، کے صدر نے مزید کہا کہ سولہ مئی کو قومی اسمبلی سے منظور کردہ ترمیمی بل کی شق ستائیس کے تحت حکومت ’قومی مفاد‘ ’قومی سلامتی‘ ’نظریہ پاکستان‘ اور ’بے ہودگی‘ جیسے پہلے سے طے شدہ تصورات کی بنیاد پر کسی بھی چینل کو بند کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’پیمرا‘ کے بورڈ میں حکومتی نمائندگی بڑھانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ملک میں بڑھتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔

ان کے مطابق حکومتی کنٹرول کے رجحان کا اندازہ حال ہی میں ’ایف ایم103‘ سے نشر ہونے والی بی بی سی کی خبروں پر پابندی عائد کرنے سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ ’ایف ایم 103‘ پر بی بی سی کی خبروں پر پابندی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر لگائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ’پیمرا‘ کے اس ترمیمی بل میں جہاں اس ادارے کو بھاری جرمانے عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے وہاں براڈ کاسٹ کے آلات قبضے میں لینے اور دفاتر کو بند کرنے کا بھی مجاز قرار دیا گیا ہے۔

ترمیمی بل کے تحت پیمرا کے چیئرمین کو اب یہ کھلا اختیار ہے کہ وہ کسی بھی قانونی تقاضے کو پورا کرنے کی چھوٹ دے سکتے ہیں۔

کارروائی سے قبل نوٹس دینے اور شکایات کا جائزہ لینے کے لیے سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم ہونے والی تین رکنی کمیٹی کے بارے میں شقیں بھی اس ترمیمی بل میں ختم کی گئیں ہیں۔

’آئی ایف جے‘ نے پاکستان میں صحافیوں کی تنظیم ’پی ایف یو جے‘ کے اس مطالبے کی مکمل تائید کی ہے جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ ترمیمی بل ایوان بالا سینیٹ میں پیش کرنے سے پہلے متنازعہ شقوں کے بارے میں تنظیم کے نمائندوں کو اعتماد میں لیا جائے اور میڈیا پر پابندیوں کے حوالے سے شقیں ختم کی جائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد