BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذہبی گروہ پر کارروائی معطل

خیبر ایجنسی میں مقامی قبائل بااثر ہیں
حکومت پاکستان نے ہفتے کے روز قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں ایک مذہبی گروہ کے خلاف کارروائی، مذاکرات کو آخری موقع دینے کی خاطر روکنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق دو روز کی جھڑپوں میں اب تک سات افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

خیبر ایجنسی کی باڑہ تحصیل میں امن و امان کے بارے میں کافی طویل عرصے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ اس تشویش کی وجہ وہاں دو گروہوں کا غیرقانونی ایف ایم نشریات کے ذریعے ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنانا تھی۔

اہل سنت کے مقامی رہنما مفتی منیر شاکر اور پنج پیری مسلک کے سربراہ پیر سیف الرحمن ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے جاری کرتے رہے اور ایک دوسرے کو زبردستی علاقہ بدر کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔

حکومت اور مقامی قبائلیوں کی جانب سے مصالحت کی کئی کوششیں ہوئیں لیکن سب بے کار۔ بالآخر ایک قبائلی جرگے نے دونوں کو ہی علاقے سے نکال باہر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس ماہ کی دو تاریخ کو جرگہ پیر سیف الرحمان کو علاقے سے چلے جانے پر مجبور کرنے میں کامیاب رہا تاہم دوسرے منیر شاکر گروپ نے اس سے انکار کر دیا۔

حکومت مفتی منیر شاکر پر اب باڑہ کی امن کمیٹی کے ارکان پر گزشتہ جمعرات کے روز حملے کا الزام لگاتی ہے۔ اس جھڑپ میں راہگیروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ جھڑپوں کے دوران دوسرے روز دو مزید افراد ہلاک ہوئے جبکہ تین مکانات کو جلا بھی دیا گیا۔

صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کی خاطر حکومت نے ہفتے کے روز سے باڑہ میں منیر شاکر کے خلاف آپریشن کا اعلان کیا تھا تاہم آج ایک تازہ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جرگے کو قضیے کا پرامن حل تلاش کرنے کے لیے آخری موقع دینے کی خاطر کارروائی روک دی ہے۔

تاہم بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ منیر شاکر گروپ کے خلاف کارروائی ختم یا مؤخر کی جا رہی ہے۔ حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ دوسرا گروپ بھی مفاد عامہ کی خاطر علاقہ چھوڑ دے گا۔

تاہم منیر شاکر کے حامی علماء نے پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں حکومت کو اسے علاقے بدر کرنے سے باز رہنے کے لیے کہا ہے۔ منیر شاکر کے حامی مولانا عبدالوکیل اور دیگر کئی علماء نے تنبیہ دی کہ علاقے بدر کرنے کی کوشش کے خلاف اس کے حامی صوبے بھر میں سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

علاقے سے اطلاعات کے مطابق کشیدگی بدستور قائم ہے اور آج مختلف ٹی وی چینلز کے کیمرہ مینوں کو بھی علاقے میں داخل نہیں ہونے دیا گیا ہے۔ دو مقامی صحافی نصر اللہ آفریدی اور خیالمت شاہ پہلے ہی ایک گروپ کی جانب سے دھمکیوں کی وجہ سے آبائی علاقے باڑے نہیں جا پا رہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد