قبائلی علاقوں میں چودہ فوجی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دو مختلف واقعات میں چودہ فوجی ہلاک جبکہ ایک درجن سے زائد گھائل ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں گیارہ فوجی جنوبی وزیرستان کے مقام سروکی میں ایک فوجی قافلے پر ہونے والے حملے میں مارے گئے جبکہ مزید تین منگل کی صبح کرم ایجنسی میں ہلاک ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق منگل کی صبع تقریباً چار بجے نامعلوم حملہ آوروں نے وسطی کرم ایجنسی میں مسوزئی کے ایک گاؤں تریتنگ ڈوگر میں راکٹوں سے ایک فوجی کیمپ پر حملہ کیا جس میں تین فوجی ہلاک جبکہ چار شدید زخمی ہو گئے۔ یہ کیمپ عارضی طور پر حیوانات کے شفاخانے میں بنایا گیا تھا اور یہاں تعینات فوجی، علاقے میں تعمیراتی منصوبوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ اس واقعہ کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے کوہاٹ سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا ہے۔ حملے کی ذمہ داری ابھی کسی نے قبول نہیں کی اور نہ یہ واضع ہے کہ اس کا تعلق جنوبی وزیرستان کے واقعات سے ہے یا نہیں۔ یہ اس ایجنسی میں گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد فوج کی تعیناتی کے بعد پہلا بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے گئے ہیں۔ توقع ہے کہ علاقائی ذمہ داری کے قانون کے تحت علاقے میں گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔ مقامی سطح پر کرم ایجنسی میں سیاسی اور سماجی تنظیموں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور اس شک کا اظہار بھی کیا ہے کہ اس کے پیچھے غیرملکی عناصر سرگرم ہوسکتے ہیں۔ ادھر، جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں ذلی خیل قبیلے کے عمائدین کا جرگہ واپس وانا پہنچ چکا ہے اور حکام کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔ فوجی حکام نے کل سہ پہر سروکئی کے مقام پر ایک فوجی قافلے کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی کوئی باضابطہ تفصیل چوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد بھی مہیا نہیں کی ہے۔ اس واقعہ میں خدشہ ہے کہ گیارہ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||